Saturday, April 22, 2017

جبل نور

0 comments
ٓاحساس کہاں ہے ، لباس کہاں ہے ؟
زندگی ہے جسکا اقتباس، وہ کہاں ہے؟
لہو کی بوندوں میں یار کا آئنہ ہے
تشنگی بڑھی بے انتہا ، قیاس کہاں ہے؟
ربط احساس سے ٹوٹا سجدے کے بعد
ڈھونڈو میرا نشان ، اساس کہاں ہے؟
جُنون کو خسارے نے دیا پتا منزل کا
حساب چھوڑو  ،دل  شناس کہاں ہے؟
-----------------------
---
جواب میں ، احساس میں کیا الجھے
پھولوں کو نئی خوشبو ملتی  جائے
رنگ بکھرتے ہیں بارش کے بعد 
وصال کے  بعد ملال ہیں مٹتے
بہاراں ہے ! یار شکوے کیسے
قبا میں بند پھول پر جگنو کیسے
صبا میں پتے ہیں کھلتے رہتے
شجر کو ملے سندیسے کیسے کیسے
----------------------

صدائے نغمہ ھو جب گونجتا ہے ، جبل میں کہرام آجاتا ہے ۔زمین پر اساس پاتے یہ جبل بُلندی کا حامل ہوجاتا ہے ۔ ذاکر کے ذکر پر خوش ہوتے شرابِ طور عطا کردیتی ہے ۔ نور سے ہستی کا رُواں رُواں کھو بیٹھے ہستی ، فرق ختم ہوجائے ، تو مشاہدہ بھی ایک ہوجاتا ہے ۔ 

تکمیل کا سفر قربانی کی دھوپ میں کاٹا جاتا ہے ۔ لوحِ محفوظ پر لکھے حُروف کی سیاہی وقت کو تھما دی جاتی ہے ۔ لٹکا دیے جاتے ہیں نیزے پر سر ، نعش سولی پر ، مٹی کے بُت سے نغمہِ ھو بول اٹھتا ہے ۔ موت کی زندگی کی عطا ہوجاتی ہے ۔ 

اندھیروں کو رُوشنی کو ہدیہ دینا ہوتا ہے ۔ احسان پر بسمل کو تڑپنا بھی سرِ عام ہوتا ہے ۔ کان کُنی کا عمل وسیلوں سے شروع ہوجاتا ہے ، فیض عام ہوجاتا ہے ، چھید در چھید کیے جانے کے بعد اندھیروں میں روشنی سے محفلِ نور کی ابتدا ہوجاتی ہے

محفلِ نور ساقی کے دم سے چلے
بادہِ مے سے سب داغ دلِ کے دُھلے


آئنہِ جمال ، اصلِ الاصل جمال میں مدغم اصل ہوجاتا ہے ۔ مقامِ فنائے عشق میں حیات دوامی ، اسم لافانی کی عطا پر شکر کا کلمہ واجب ہوجاتا ہے ، خوشبو کا بکھر جانا کِسے کہتے ہیں ، صبا کو سندیسے کیسے دیے جاتے ہیں ، غاروں میں اندھیرا ختم ہوجانے کے بعد سب در وا ہوجاتے ہیں ۔


مرا وجود تیرے عشق کی جو خانقاہ ہے
ہوں آئنہ جمال ،تیرے ُحسن کا کمال ہے


۔ صدائے ہست کے میٹھے میٹھے نغموں کا سلسلہ جاری رہنا ہے ، سجدہ در سجدہ سلسلہ جاری رہنا ہے ، سویرا ہوجانے کے سویرا پھر کیا جانا ہے ۔


سجدے میں ایک اور سجدہ کریں
سر اٹھنے پر ہم نیا سویرا کریں 
مہِ تاباں کی سُرخ پلکوں پر
تلوں کے بل پہ رقص کریں 

مصور نے عبد کی تصویر میں جمال کے نگینوں سے سجایا ہے ۔اسکا احسان ہے کہ جمال دیا ، اسکا احسان کہ کمال کی رفعت دی ۔ احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے ۔جہاں جمال بسا دیا جاتا ہے ، رسمِ شبیری کو نیا وقت دیا جاتا ہے۔نماز کے لیے قبلہ مقرر کر دیا جاتا ہے ۔سرِ طور سُحاب روشنیوں کی برسات کرتے ہیں ، اقصیٰ کے میناروں میں جگہ دے دی جاتی ہے ۔

اے سرِ زمینِ حجاز ! تجھے سَلام ! سینہ مکے سے مدینہ کردیا جاتا ہے ۔محبوب کے محبوب کی جانب متوجہ کردیا جاتا ہے ۔ یہ مساجد ، یہ جبل ، یہ مینارے ، تیرے روشنی کے استعارے ، لہو ان سے گردش مارے ، کہاں جائیں غم کے مارے ، کرم ہو مرجائیں گے دکھیارے ۔ کپڑا جل کے راکھ ہوجائے تو ہوا کو اوپر اٹھنے نہیں دیا جاتا ہے ، چنگاری سلامت رہتی ہے ، راکھ بکھرتی نہیں ہے ، خوشبو دھیمی دھیمی بکھرتی ہے ۔

Friday, April 21, 2017

لٹو

0 comments
نور کی برسات میں سونے ، ہیرے ، چاندی گرتے دکھ رہے تھے جبکہ لینے والے نے دینے والے سے سوال کیا
تقسیم میں فرق کیسا ؟
اختلاف میں حسن کیسا؟
اظہار میں دیر کیسی ؟
یہ معاملہ ، اسمیں معاملہ کیسا ؟

وہ جو ہروقت سب میں تقسیم کے اختلاف کو مدنظر رکھتا ہے ، اسنے مسکرا کے لینے والے کو دیکھا اور کہنے لگا ،
دل میں نور کی صورت کیسی ؟
صنم خانہ کی ضرورت کیسی ؟
جلوے کی بیتابی کیسی ؟
اظہار میں بے باکی کیسی ؟

ابھی دیالو کے چہرے کی مسکراہٹ ختم نہ ہوئی تھی کہ زمین نے گردش میں گردش کو رد کرتے نئے زاویے بنا دیے !
ایسے زاویوں پہ حرکت کرتے دیالو کو احساس ہوا کہ سیم و زر کی بارش اس اضطراب کو کافی نہ ہوگی ، اسنے ہیروں کو بغور دیکھا جسمیں کوئی سرخ رنگ ، کوئی گہرے نیلے رنگ اور کوئی کالے رنگ کا تھا ۔۔۔

یہ نیلے رنگ کا تمھارا تھا ۔کالا تم نے اتار پھینکا ہے۔سرخ سے تمھیں نوازا جانا ہے۔تمھارا ہاتھ خالی ہے ۔تمھارا چاند ، ماہتاب بنا نہیں ہے اسلیے تمھاری گردش بھی نئی ہے ، احساس بھی مختلف ہے ۔۔۔ابھی تک جتنے بھی نوازے گئے ، سب کے احساس میں اختلاف ، اضطراب میں خاصیت ، رنگ میں ماہیت ہے ! تمھاری گردش بھی نئی ہے 

لٹو ---------------------زمین اسطرح  گھوم رہی تھی جیسے لٹو ! لٹو کی گردش سے اسکی ہیئت بدل رہی تھی ، ظاہر باطن میں جھلکنے لگا اور باطن ظاہر میں ۔۔۔ جب گردش تھمی لٹو ٹوٹ چکا تھا ، زمین کا رشتہ فلک سے جڑ چکا تھا

Sunday, April 16, 2017

فنا کے بعد

0 comments
وقت کے پنجرے کا دائرہ زمانے ہیں ۔زمانے خود بھی تو دائرے ہیں ۔ اسمیں گھومنا زمین کے بس میں کہاں جبتک کہ سورج کو مرکز میں نہ رکھا جائے ! چاند بھی اسی صورت زمین کے گرد گھومتا ہے اور زندگی ------زمین کی دل کشی بڑھ جاتی ہے ۔خطِ استوا پر روشنی کی جاتی ہے اور حق حق کی ضرب سے استوا سے نور کی شعاعیں سورج کی شعاعوں میں مدغم ہوجاتیں ہیں ، زمین سے سورج کے وصال کے بعد چاند بہت اکیلا ہوجاتا ہے اور  میں سمندر شور مچاتا ہے جس سے بھنور در بھنور زمین رقص کرتی ہے ، رقص زندگی ہے ، رقص خوشی ہے ، رقص  نشاطِ ہستی کی کہانی ہے ۔ رقص احساس کی دڑاڑوں میں کرچیاں ڈالتی روشنیوں کے ستم کی بات ہے ، روشنی جب زمین میں بس جاتی ہے تب کالا رنگ اتر جاتا ہے ، جب کالا رنگ اترتا ہے تبھی نئے رنگوں سے نوازا جاتا ہے وہ جو افق پر قوسِ قزح ہے وہ میرے نصیب  کی بات ہے ۔

پنچھی ایک پنجرے میں قید  جبکہ وقت اسکے گرد رقص کر رہا ہے اک وقت وہ بھی تھا جب پنجرہ وقت کے گرد رقص میں مدہوش۔۔۔۔۔۔۔ مدہوشی کا دائرہ طویل ہوتا جارہا ہے ، پنچھی پرواز کرتا جارہا ہے ، دائرے میں  گھومتا جا رہا ہے اور کبھی وادی ، کبھی جنگل کبھی پربت پر گھومتا کبھی فلک کی بلندی کو پہنچ جاتا ہے

تصویر کیسے تیری بناؤں ؟ صنم کو کیسے پہچانوں ؟
تراش رہا ہے وہ مجھے ، اس کو کیسے جانوں ؟
کائنات اسکا اثبات ہے ، میں ایک ذرہ ہوں
ذرہ کیسے کائنات بنے ، کیسے اثبات کروں؟
اے حقیقت اپنے حجاب اٹھادے جلوہ کرادے
یوں کہ نہ ہونے سے ہونے تک کا سفر چلا دے
رنگوں میں رنگا رنگی کائنات ، اس رنگ میں جلوہ کر
حق ھو ! حق ھو ! حق ھو ! حق ھو ! کی صدا بلند کر

سبی
زمین اس کائنات میں طور بنی ہوئی ہے اور ھو ھو کی صدائیں غاروں سے نکلتی اسے رقص کرارہی ہے،  اس روشنی کو جو زمین کے بند  دریچوں کو روشن کر رہی ہے ،اس نےاس پر انوار کی بارش کردی ہے اور یہ تجلی کے مصداق روشنی وجود کو روشن کیے دے رہی ہے  زمین کا وجود عدم کی مٹی سے بنا ہے کہ زمین نفی ہے جبکہ فلک اسکا اثبات ہے ، زمین خلا ہے ، فلک پر وہ مکین ہے بس اسکو بقا ہے ۔زمین کو آسمان کا سفر درپیش ہے گویا اثبات کی پہلی منزل پر قدم ہے ۔ وہ سفر جو رکوع سے شروع ہوا تھا وہ سجدے میں فنا ہوجانا ہے  ۔ عروج کے بعد اسنے رہ جانا ہے جبکہ فانی ذات بکھر جانی ہے ! ھو ! حق ھو ! ھو ! ھو ! سورج کی شعاعوں میں فنا ہونے کا اشارہ ہے ، ساجد نے سجدہ کرنا ہے اور روح نکل جانی ہے ، جسم بس رہ جانا ہے ، پرواز مقدر ہے پنچھیوں کے لیے کہ پنچھیوں کا  ٹھکانہ فلک ہے

لا الہ پنچھیوں کے تسبیح ہے اور تسبیح سے الا اللہ کی صدا  نکلی ہے۔ الا اللہ  صدا ہے ،حق ھو ! حق ھو ! حق ھو ! حق ھو،جھوم رہا  ، ہےقلب  دل وطن کی سرحد میں ،روح جذب باطن میں ، عشق غلامی میں ، دل میں علم رکھا ہے خزانے کی کنجی الا اللہ ہے
الا اللہ کی صدا ھو ھو ھو  ، چاروں طرف ھو ھو ! یہ کون جان پایا ہے کہ وہ جس کو مل جاتا ہے بندہ بدل جاتا ہے ، اسکے وصال کے بعد حال کو حال نہیں آتا ، حال میں کوئی ساتھ نہیں رہتا ، وہ دکھتا ہے جو ساتھ رہتا ہے ! حق ھو ! ھو ھو ھو ھو ھو ھو ھو ھو ھو ھو ھو ھو ھو ھو ھو ! حق حق ! حق! حق ! دل سے دل تک ، نقل سے عقل تک سفر شروع ہوا ، کپڑا جلا دیا گیا ، عشق کی لو بڑھا دی گئی اور کہا گیا ہے کہ صبر سے کام لینا ہے اور صبر سے کام نہیں چل رہا ، پنچھیوں کے پر کاٹ کے اڑان کی اجازت دی جاتی ہے گویا  رسیوں سے باندھ دیا جاتا ہے ۔ وہ اسکے اختیار کی رسیاں ، اسکی قدر کے دھاگے ! کٹھ پتلی کی دوڑ گھماتا ہے اور دھیرے دھیرے کٹھ پتلی اسکے اشارے سمجھ جاتی ہے اور کٹھ پتلی اشارہ ہوجاتی ہے ، کن سے فیکون ہوجاتی ہے ، بے بسی سے بس میں آجاتی ہے ، خیال کی قید سے بے انتہا  ہوتے خیال کو اپنی قید میں کرلیتی ہے !

Friday, March 24, 2017

جو تارِ ہستی سے اتار کے قبا چلے

0 comments
جو تارِ ہستی سے اتار کے قبا چلے
غمِ حیات بھی ہمی سے شرم کھا چلے

نشانے پر لگے تھے تیر جتنے بھی لگے
زمانے کے رواجوں  پر سو مسکرا چلے

شجر سیاہ ،دھوپ میں جلے، تو سو ہوئے
صبا کے جھونکے خاک، خاک میں مٹا چلے

بریدہ شاخ پر گلُوں کی  بکھری مہک
زمانہ بعد مرگ کے ہی رحم کھا چلے

یہ سیل آب جانے کب تلک پرکھ کرے
کنارے سے چٹاں کو ساتھ جو بہا چلے

-------------------

Friday, February 3, 2017

معراجِ بشری

0 comments
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں 

حقیقت کبھی نظر نہ آئی  مگر حقیقت محسوس ہوئی ۔ احساس میں موجود رگوں میں سرائیت کیے ہوئے کہ ہماری شہ رگ سے قریب ہے ۔بعض انسان سرپھرے ہوتے ہیں ، شاید مجھ جیسے جنکو حقیقت کو دیکھنے کی جستجو ہوتی ہے ۔ محشر کے بعد دیدار ہونا ہے تو ہر پل میرا محشر ہے۔ اس حشر کی تسلی کو ہر دوسرا پل دیدار کو لکھ دیا ہوتا ۔ میرے لیے لمحہ بھر کا درد بھلے زمانوں پر محیط ہوتا مگر وہ تو ہوتا جو درد کی شکل میں موجود ہوتے دکھتا نہیں ہے ۔ایک سانس نفی کرتی اور دوسری سانس الہ کہتے دیدار کرتی ہے ۔ 

اِنسان کے لیے اپنا ہونا ایک بڑے صدمے سے کم نہیں مگر ذاتِِ حق کی آگہی ہونے کے بعد ۔ انسان اپنی پُوجا کرتا ہے ، عبد ہوتے ہوئے معبود بن جاتا ہے ۔ عبدیت کی ضد میں معبودیت پر فائز ہوجانا صرف کفر ہے ۔میں خود پسند ہوں کیونکہ میں نے خاک کی شکل کو پسند کیا یا میں خود پسند ہوں کہ مجھے اپنی باطنی صورتوں سے پیار ہے ! ایک قسم کی خود پسندی جو خاکی پُتلے کو حاصل ہے ، وہ اس خود پسندی سے مختلف ہے جو روح کو دیکھنے ، سمجھنے ، سننے کے بعد حاصل ہوجاتی ہے !

جب انسان اپنی روح کا طالب ہوتے سننا ، دیکھنا اور سمجھنا شروع کردیتا ہے تب اسکو یقین کی سواری مل جاتی ہے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!یقین عالمِ حسیات کی جانب گامزن ہوتے احساس دِلاتا ہے کہ سانس کی ادائیگی بھی کلمہ لا سے الا اللہ کا سفر ہے ۔ جیسے جیسے اس سفر  میں پاؤں میں آبلے ، دل دشت و ہشت نگر ، روح خار سے تار تار ہوجاتی ہے تب وہ اثبات کی دولت عطا کرتا ہے ۔ خلافت کی نعمت اس اثباتِ حق کے تسلیم کے وحدانیت کی جانب سفر شُروع ہوجاتا ہے ۔ سورہ الاخلاص کی عملی تفسیر بنتے انسان واحد کی شرکت میں ''لا '' کی مہر ثبت کرتے '' الا اللہ '' کی تسبیح کرتا ہے ۔ یقین سے ملی اثبات کی نعمت کے بعد مافوق العقل واقعات انسان سے سرزد ہونا شُروع ہوجاتے ہیں ۔جو ان میں کھوگیا وہ نفس کی پہچان میں دھوکا کھا گیا ، جو نکل گیا وہ خالص ہوگیا ۔دھوکا کھانے والے وہی لوگ جن کے بارے میں سورہ العصر میں بیان کیا گیا کہ جن کے اعمالات سیاہ نے عمر کا صفحہ چاک کردیا ، مہلت قلیل ہوگئی اور خسارہ بڑھ گیا ۔

کلمہ لا الہ الا اللہ '' شک '' و ''یقین '' کی جنگ  سے تعبیر ہر انسان کی عملی کہانی ہے کیونکہ ہونٹ اس کو ادا کرتے ہیں جب روح اس کے ورد میں مصروف ہوتی ہے۔روح پر خاکی ملمع جب اتر جاتی ہیں تب روح کے زنگ ختم ہوتے ہیں ، رنگ ابھرتے چمکتے ہیں ۔روح کی صورتوں کو نیا شعلہِ شوق عطا کیا جاتا ہے ۔ جس جس سے انگ میں شوخیِ ہست و نمود کی چنگاریاں پیدا ہوجاتی ہیں تب درد کا صور بالخصوص ایک بار پھوُنکا جاتا ہے ، جس سے موت یقینی ہوجاتی ہے یعنی موت کو شہ مات ہوجاتی ہے ۔ یہ درد کبھی رقصِ بسمل کراتا ہے ، ننگے پاؤں خار پر چلاتا ہے ، بدن لہو لہو ہوتے سر نیزے پر لگواتا ہے ۔ یہ درد کبھی اژدہے کی صورت تو کبھی شیر کی شکل میں تو کبھی چیتے کی خونخواری لیے بوٹی بوٹی نوچتا کھسوڑتا اور خون چوستا محسوس ہوتا ہے ۔ ہر رگ کی رگ کے دس ہزار ٹکرے کر دیے جائیں اور ہر رگ میں کائنات کی دوئی کا درد رکھا دیا جائے تو روح درد سے اپنے وجود سے منکر ہوجائے  یا پھر بڑھ کا سامنا کرتے کہے :
 آ درد ! ہم تجھے تھام لیں کہ ہم میں اتنا حوصلہ ہے ! آ درد ! ہمارے طوفان سے مقابلہ کرلے ! ہمارے اندر طوفان ہے ! آ درد!  خنجر اور تلوار کا رقص کریں  ! درد ! درد ہم سے منہ چھپاتا پھرتا ہے کہ ہمارے دل کے خون کے آگے سب ہیچ ہے ! مٹی ہیچ ! آنسو ہیچ !  ہوا ہیچ ! شیشہ ہیچ کہ ٹوٹ کے بکھرجائے ! سب مایا ہے مگر بدن پر ہوس کا سایہ ہے ! ہوس نے بدن کو تھام رکھا ہے جبکہ درد کی ہوس سے شدید قسم کی کشمکش ہے تب درد شب خون مارتا ہے ! یہ کھیل ہجرت کے بعد سے شُروع ہوا اور وصل سے پہلے تک جاری رہتا ہے ! اس دنیا میں کوئی روح اس درد سے ماورا نہیں ۔سب کے اندر یہی الاؤ دہک رہا ہے جس سے جلا ہوا جل کے راکھ ہوجائے ! یہ آگ پھر بھی ختم نہ ہو تاوقتیکہ کہ گلزار ہوجائے !

لا الہ الا اللہ کے بعد سے عروج انجم تک کا سفر ــــــ فرش سے عرش تک کا سفر ہے ۔ الم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس عرش کی کہانی اسی ' الم ' کی کہانی ہے ۔ رحمت ِ خاص جو حضرت محمدﷺ پر ہے وہی رحمانیت ہے جبکہ بندوں پر جو عطا سیدنا سرکارِ دو عالم ﷺ کی ہے وہ رحیمی ہے !  جہاں پر تقسیمِ عمل لائی جاتی ہے وہ خانہ کعبہ ہے مگر جہاں سے تقیسم شُروع ہوتی ہے وہی جگہ مسجد نبوی ہے اور جہاں پر معراج بخشی جاتی ہے وہی جگہ مسجد ِ اقصی ہے ! اسی طرح عشق کے بھی تین مقامات ہیں ، عشق کا عین : مقامِ لا ، عشق کی شین : مقامِ لا سے الہ (بالخصوص ذات میں گم ہوجانے کے بعد ) ، عشق کا ق : مقامِ الا اللہ ! تقسیمِ خاص سے تقسیمِ عام سے ہوتے معراج کا سفر ہی انسانی روح کا کائنات میں معین سفر ہے !
 

Sunday, January 29, 2017

اے زندگی رنگ نہ بدلنا

0 comments
زندگی سے بچھڑے اک عرصے ہوگیا ہے ۔جب زندگی ملتی ہے تو بچھڑی بچھڑی لگتی ہے ۔ زندگی کے کئی سال بعد میں اُسی مقام پر کھڑی ہوں ، جہاں سے سفر شُروع کیا تھا ۔ زندگی نے کیا کیا لیا ہے اس بات کے ذکر لا حاصل ہے مگر میں نے اس کو کیا دیا ہے یہ بات سود مند ہوتی اگر میں نے اپنی ناکامیوں کا بدلہ اسی زندگی سے نہ لیا ہوتا ۔بارہا خود سے زندگی کو جدا کرنے کی کوشش کی مگر ناکام ہوگئی تب مجھے احساس ہوا کہ ایک طاقت میرے ارادے سے بڑی بھی ہے ۔ جو ارادے میرے بنے تھے وہ ٹوٹتے رہے جیسے خزاں کے پتے شاخ سے اجڑتے رہے ہیں ۔ جن پتوں کو میں نے کھروچنا چاہا اور باوجود کوشش کے وہ شاخوں سے گوند کی مانند جمےرہے تب احساس ہوا کہ میں خود میں کچھ بھی نہیں ہوں ۔

زندگی میں بارہا واقعات اپ کی سوچ کے دھارے بدل دیتے ہیں ۔زندگی سے گزرنے والے واقعات نے میری ہمت و طاقت کو مجھ سے گزار دیا ۔ میرے ارادے ، میرا یقین جب ٹوٹتا گیا جیسے شیشے کے کانچ زمین پر لگنے سے بکھر جاتے ہیں ، میرے ارادے زمین پر کانچ کے ٹکروں کی مانند گرتے رہے اور میں ان کے زخم سینے میں محسوس کرتی رہے ۔۔۔۔۔

خون جاری ہو زخم سے کب تلک
لوگ مرہم رکھ چکے شمیشیر سے 

میرے سینے میں ٹوٹتے خوابوں کی کرچیاں خون کا سیلاب بناتی رہیں اور میں بظاہر ان کا بدلہ لینے کو خود کا خون بہاتی رہی ۔ خُدا بھی اوپر بیٹھا میرا تماشا دیکھتا رہا ۔ اس نے مجھے ڈانٹا نہ کچھ کہا ،کیونکہ اس نے میرے کیے کرتوتوں کا انجام لکھ رکھا تھا ۔ میں نے جو تیر کمان سے بدلہ کو نکالا وہ میرے سینے میں کھب گیا ۔ بظاہر میرا جسم اس زہر سے گھائل ہوتا رہا اور روح زخمی و نڈھال ۔۔۔ میرے جسم کی دیوار سے نکلنے والی روشنی لوگوں کو دھوکا دیے رکھتی کہ میں ایک بہادر عورت ہوں جس نے خود کو سنبھال رکھا ہے مگر اس کے وجود کی شاخوں کی بنیادیں ختم ہوتی جارہی تھی جیسے دیمک سب کھا جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔

دیمک تنے کو چاٹتی جارہی تھی
اور ہم کتنے مگن شجر کی نگہبانیوں میں
میں اس کھوکھلے پنے میں مرتی جیتی رہی ہوں ۔۔۔ ایک وقت ایسا آگیا جب مجھے زندگی نے بیمار کردیا اور میں نے اپنے وجود سے اختیار کھو دیا ۔خود کا تماشائی بنتے ، خود شناسا ہونا کتنا تکلیف دہ امر ہوتا ہے اور یہ وہی جان سکتا ہے جس پر گزری ہوتی ہے ۔ ایسے سمے کبھی خود پر فاتحہ پڑھتے ، کبھی استغفار پڑھتے ، کبھی رحمت کی دعا مانگتے تو کبھی خود کو خود سے بچھڑتے دیکھتے انسانیت میں چھپے چہرے دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے احساس ہوا کہ میں نیند سے جاگ چکی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک سال کا عرصہ کم نہیں کسی کے بیمار ہونے کے لیے ، محتاجی کا احساس ہونے کے لیے ! کم نہیں تندرستی کی دولت ! میں نے خود کو نقصان دینے کے سو بہانے تلاشے اور جب زندگی نے مجھ پر ایک وار کیا تب میری ساری اکڑفوں نکل گئی جیسے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے ۔۔۔ اس بیماری میں پچھلے سال اگست میں شاہ رکن عالم جانے کا ارادہ باندھا مگر چلنے پھرنے سے محال ہونے کے باعث جا نہیں سکی ۔ اس کے بعد نومبر میں جانے کی کوشش کی مگر مزید بیماری کا حملہ ہوگیا ۔ ایک سال بعد آج میں شاہ رکن عالم کے گنبد میں بیٹھی سوچ رہی تھی کہ میں ایک سال بعد اس جگہ پر آئی ہوں ! ایک انجانی سی خوشی ہورہی تھی کہ اپنے قدموں پر چلتے ہوئے اس جگہ پر آئی ہوں گوکہ میرا جسم میرا ساتھ دینا کبھی کبھی چھوڑ دیتا تھا مگر میری بات مان رہا تھا اور وہ دن جب میں ڈاکٹر کے پاس جانے کے لیے بائیک یا کسی رکشے پر بیٹھ نہیں سکتی ، میں ڈاکٹر کے پاس سیدھا بیٹھتے اپنی طبیعت کے بارے میں بیان نہیں کرسکتی تھی اور مجھے لٹا کے میری طبیعت کا پوچھا جاتا ہے ۔ ایک سال بعد میں اس جگہ پر بیٹھی سوچ رہی تھی شاید میں اب میں کبھی ویسا بیمار نہیں ہوں گی ! شاید اب زندگی میں ایسا کوئی طوفان درپیش نہیں ہوگا

صبح سویرے اٹھنا میری عادت رہی ۔ میں آج صبح پانچ بجے اٹھی ، نماز پڑھی ، کچھ قران مجید کے صفحات کا ورد کیا اور چل دی اس راہ جس سمت جاتے ہوئے ارادے کے بنا ہی زندگی لے جارہی تھی ۔ میں نے جوتے اوقاف کے ملازمین کو حوالے کیے اور بوری نما ٹاٹ کے اوپر سے چلتی ہوئی گنبد میں داخل ہوگئی جبکہ دور سے کبوتروں کی غٹرغوں کی بلند آواز مالک کی یاد دلاتی محسوس ہورہی تھی ۔۔ اندر داخل ہوتے گلاب اور اگربتی کی خوشبو سے روح محصور و مسحور ہوگئی ! میں قبور کو پار کرتے ہوئے قبر مبارک کے پاس کھڑے سوچنے لگی کہ یہ ہستی ان کو گلابوں کی کسی محتاجی ! ان کی قبر پر سرخ رنگ کی چڑھی چادر خالق سے وصل کی نشانی ہے ۔۔ وہاں پر کھڑے ان کی روح کے احساس کو اپنے من میں محسوس کرنے لگی ! وہاں پر ان کے لیے فاتحہ پڑھی اور اللہ تعالیٰ سے اپنی صحت کی دعا مانگتے ، اللہ سے اللہ کو مانگا ۔۔۔میں اس مقام پر ہوں جہاں میری ساری خواہشات مٹی مٹی ہوگئی ہیں بس ایک خواہش رہ گئی ہے کہ مجھے وہ مل جائے جس نے مجھے نئی زندگی دی ! میرا نیا جنم ہوا ہے اور موت کو شکست دے کے زندگی کے دہانے پر کھڑی ہوں کہ ابھی جنگ تو باقی ہے ! پھر میں اندر چلی گئی جہاں خواتین کے لیے مخصوص ہے ۔

اندر خواتین قران خوانی میں مصروف تھیں جبکہ کچھ نماز میں ۔۔۔ میرا دل باہر بیٹھنے کو تھا ! مگر حبس کی وجہ سے اندر خواتین کے لیے مخصوص جگہ میں بیٹھنا پڑا ۔ وہاں پر لگا پنکھا زندگی کی آہستگی کے بارے میں پتا دے رہا تھا جبکہ اس پر لگے جالے ہماری اوقات کا ! قران پر قران پر پڑے دیکھ کے خیال آیا کہ قران سمجھنے کے لیے تھا مگر یہاں مارکیٹ بننے کے بعد اس طرح جزدان میں بندھنا مقدر تھا ! کچھ خواتین قران پاک جزادان سے باری باری نکال رہی تھیں اور اس کا پہلا صفحہ کھول کے الحمد شریف کی پہلی لائن پڑھنے کے بند واپس رکھتی جارہی تھیں ۔ استفسار پر بتایا کہ منت مانی تھی جو پوری ہوگئی ہے ۔۔۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں پڑے قران پاک کب سے بند پڑے ہیں ان کو کسی نے کھولا ہی نہیں ! دل کو بھی کسی نے نہیں کھولا نا ! یہاں پورا کا پورا قران رقم ہے مگر کسی نے دیکھا بھی نہیں اور سننے کے لیے دل کی سننے کی سعی کون کرے ! یہ دن میرے شکر ادا کرنے کا تھا کہ میں پورے اک سال سے زائد عرصے سے بیماری سے لڑتے ہوئے بالآخر صحت یابی کی جانب چلنے کی سعی میں ہوں ۔۔میں کوشش میں ہوں گوکہ میرے اندر وہ توانائی نہیں ہے جو پہلے ہوا کرتی تھی مگر یونہی چلتے چلتے میں اپنی توانائی حاصل کرلوں گی ۔ ان شاء اللہ
 

Saturday, January 28, 2017

منتشر سوچ

0 comments
کتنی عجیب بات ہے کہ بات سن کے ہم جلتے کڑھتے ہیں ۔ اس جلن سے آنسو نکل آتے ہیں ۔ گفتگو کا مادی وجود نہیں ہے مگر اسے جو نکلتے آثار ہیں وہ سب مادی ہوتے ہیں ، محبت کا جذبہ بھی خیالی ہے مگر سدھ بدھ ختم کردیتا ہے ، جسمانی اعمال میں نقص کا باعث بنتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کھاتے ہم ہیں مگر تسکین خیال سے پاتے ہیں ، خیال کیا ہے ؟ روح ہماری ہے اور روح میں کیا پوشیدہ ہے ؟ اللہ کا نور ہے جس طرح روح کا لباس جسم ہے اس طرح نور کا لباس کالا کپڑا ہے ۔ جب پردہ اٹھتا ہے تو سب مل جاتا ہے ۔ کبھی وہ بس ایک جھلک دکھاتا ہے تو کبھی پردہ تا ابد چاک ہوجاتا ہے ۔ روشنی جو اندر سے نکلتی ہے وہ ظاہر کی آنکھ دیکھ نہیں سکتی مگر اسکی شعاعیں خود پر منعکس ہوتی رہتی ہیں اور ہمیں جلوہ ہوجاتا ہے ۔ احساس ہوتا ہے نور پوری تابانی سے چمک کیے ہوئے ہو ۔ اسکو یاد کرنے دل میں خوشی اور نہ یاد کرنے سے دل میں ملال پیدا ہوتا ہے ۔جب وہ میرے پاس ہے تو مجھے کسی کا کاہے کا ڈر ہے ۔ یہ توکل اور یقین کی بات ہے ک جس کے ساتھ مالک ہے اسکو کسی اور کی حاجت نہیں ہوسکتی ہے ! لوگوں کو یہ باتیں سمجھ نہیں آتی کیونکہ مادیت نے اتنے نقاب اوڑھ لیے ہیں سب کچھ چھپ گیا ! ہم تو اپنے لیے جیتے ہیں ! ہم نے جب اپنی ذات کا تماشا لگانا چاہا تو کون پوچھنے کی تاب رکھ سکتا ہے کہ ہم نے اس ذات کا تماشا کیوں رچایا ؟ یہ ہم ہیں ۔۔۔۔۔ہم جو چاہیں ، ہم اس پر قادرہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔قدرت ہماری ہم جسکو چاہیں، ہم جسکو جیسے نوازیں ، دنیا کی فکر نور چھوڑ ! میری جانب رخ کرو ۔۔۔۔۔۔۔نور کی جانب متوجہ ہو ! نور کو نور کی ضرورت ہے ! نور نور کے ساتھ مل رہا ہے ۔۔۔لاگے کے وصل قریب ہے وہ جو میرا حبیب ہے ۔ا



منتشر سوچ

0 comments
سیاہیاں مجھ میں ، داغ مجھ میں ، چلیں اسی کے چراغ مجھ میں ۔ میرا تو سب کچھ میرا نبی ہے ۔وہ میرے اندر کی روشنی ہے جسکے جمال پر نظر لگی ہے ۔ وہ شہِ عالی ، جسکی ضُو سے صحرا کے ذرے جگنو بن جاتے ہیں ۔ اس روشنی نے دل کو سورج بنادیا ہے ! وہ روشنی جسکی تجلی با برکت نے میری دُنیا کی کایا پلٹ دی ہے ! میں با ادب ان کے روضے کے سامنے سر جھکائے کھڑی ہوں ۔ یا نبی ! بہت دیر ہوچکی ہے ، کب اس در پر بُلا ئیں گی جو در نظروں سے اوجھل ہے ، وہی جو نگاہوں میں ہے ۔۔۔۔ شہِ والا ہماری سُنیے ! ہماری بات مانیے ! ہمیں اپنے در پر بُلاکے دُنیا کا نہ چھوڑیں ۔ ہمیں اپنا بناکے دُنیا میں چھوڑ دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے صاحب جمال  ، اے سراپا قمر ! اے منیر ! اے شاہِ ہادی ! وادیِ دل میں اترے آپ کی سواری اور ہم اس پرکیف فضا میں کھو جائیں ! ہمیں ہوش نہ رہے کہ ہم کس جہاں میں ہیں مگر آپ کی بارگاہ میں ہیں ! آپ کے در سے عمر بھر کا یارانہ ہوجائے ! یہ جو روح ہے نا ، یہ آپ کو پکار پہ گھومنے لگتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ ایک طوفان کے بعد سراپاِ خاکی کا لباس اتار دے پھینکے گی اور کہے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہی جنون کی پاداش ہے ، عمر بھر کا روگ ہے ، لباس والوں کو ضرورت ہے پوشیدگی کی، روح کو لباس کی کیا ضرورت ہے ! نہ سوال نہ جواب ۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے پاس خامشی ہے ! کیا کریں خامشی کی زبان بھی خامشی سے چلے گی اور ہم منتظر رہے کہ کب خود کے روبرو ہوجائیں کہ سب کچھ ختم ہوجائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سارے حجابات جو حائل ہیں یار کے میرے بیچ ------وہ سب جدا ہوجائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


میخانہ کب بنے گا دل
پیمانہ جب بنے گا دل
پیمانے کو ملا گا پیمانہ
ہوجائے گا پھر یارانہ
شہ والا ہماری سنیے 
درد کو دل میں بھریے

یہ نمی جو اسکے جلوے سے بود ہوئی ہے ،یہ شوق جو جنون کی فرمائش ہے اور جو خواہش ہے وہ یار کی پیمائش ہے جو لا محدود  ہے میری محدودیت میں ۔۔۔۔۔میں اسکی ہوں جو ساری دنیا کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جو دل ہے نا میرا ، یہ روئی کی مانند اڑتا جارہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Tuesday, January 24, 2017

حق حق میں کریندی جانواں ھو ! ھو ! ھو !

0 comments

حق حق میں کریندی جانواں ھو ! ھو ! ھو !
دل دیاں گلاں بتاندی جانواں ھو ! ھو ! ھو!
نور نیں ہن جاناں طور کول!
ویکھن کتھے زیادہ اے جل تھل!
طور نے مینوں ویکھ سجدہ کیتا ھو! ھو !ھو !
میں کیہ ویکھاں طوری دی جل تھل !
ایہہ دنیا ست دناں دا میلا اے
مٹی نے فر مٹی اچ رَل جانا ھو !
سچ کریندے کریندے سچی  ہوئی
''میں میں '' کریندے ذات سی کھوئی
آہاں دا بالن بنیندا اے سالن
فکران میں کیہڑا میں لگی پالن
طور نے سجدہ کرن میں چلی
طور نے مینوں ویکھ سجدہ کیتا
میں سہاگن ہوون ہن چلی آں
سرخ جوڑا پاون ہن چلی آں
نچ نچ کے یار مناؤں دا ویلا اے
واواں سنگ چلن دا ویہڑا اے
درد سے سوتے کٹن پئیں آں
یار نے باگاں میری کھنچی آں
گُلابی چوالا پاون لگی آں
اتھرو اکھاں اچ لا لئے نے بند
وصل نے لایا اے نوا چنگ
کُھم کُھم جاون دل دیاں پھرکیاں
تاگے کھنچی جاندا چھیتی چھیتی
حق نے لا لیاں دل اچ بانگاں ھو ! ھو ! ھو 1
حق دا کلمہ عاشق بنندی جاندی اے ھو ! ھو ! ھو !
حو دا کلمہ نے وچوں کلام وی کیتا اے ھو ھو ھو !
میں وی حق دے نال لا لیاں بانگاں ھو ! ھو ! ھو!
حق نے اندر لایا اے ڈیرا ھو ! ھو ! ھو !
میرے اندر ہوندا جاندا سویرا ھو! ھو! ھو !
اونہوں منان لئی ذکر اودھے یار دی کریندا آں !
عطر تے گلاباں دی خوشباں نے دتیاں نے مستیاں ! ھو ! ھو ! ھو !
یار دے یار نال میں لا لئیا نے یاریاں ! ھو ! ھو ! ھو !
خود نوں ویکھ ویکھ کے ٹھردی پھراں ! ھو ! ھو ! ھو!
زبان خشک حق کریندی ہوئی
محبوب دی گلاں وچ میں کھوئی
دل فر وی لاندا جاندا واجاں ھو ! ھو ! ھو!
ھو دل نال میں بندھی جاندی آں ! ھو ! ھو ! ھو
---------
ماں تُوں دوری بڑا ستاندی اے
اَکھیاں ہن نہراں وگاندیاں نیں
ماں نوں ہر شے اچ لبدی ساں
ماں ہن  ہر شے اچ دکھدی اے
او ! جیس دی شہنائی درد آلی اے
جیس دے در دا جگ سوالی اے
نور دا عرشاں تے ڈیرا اے
لالی نے کیتا ہن سویرا اے
لالی نے سہاگن کردتا اے
سہاگ شادی دی علامت اے
سہاگ وصل دی نشانی اے
تن سی میلا ، چھایا سی ہنیرا
سہاگ نے میل ہن لا چھڑیا
پانی نے زمین نوں سیراب کیتا
بیل بوٹے مالی نے لا چھڈے
مشک دی بوٹی دل اچ لا دتی
فنا تے بقا دی رمز سنا دتی
نور و نور ایس نگر دے وچ ہوئی آں
شاہِ ہادی نے خالی ہتھ کدی نی پیجیا !
اودھے کل میں ٹردی ٹردی پھراں
دل میرا دتی جاندا اے بانگاں
دل میڈا کھلدا گلاب  وانگر
جیویں قران اچا وچ کتاباں ھو ! ھو ! ھو!
مشک نے اندر ہن ورسایا
جاں میری ہولن تے آئی
میں نچ نچ کے یار کرینداں آں
نچ نچ کے یار مناندی آں
ھو ! ھو ! دی واجان لائی جاواں
رب نے لائیاں ہن نوری محفلاں
واواں مینوں ٹوھنڈی پھردیاں نے
ھو ! دے بسیرے نے سویرے کیتا
کالکاں مٹیاں ھو دی لگیاں صداواں
ذات دی نچی ، اچا میں کیتا اے
حق نے اندر میرے سویرا کیتا
''ھو '' دا دیوا اندر بلدا پئیا اے
ایڈھ بسیرے نے اجیارا کیتا اے
زمین ساڈی دا ھنیرا مٹیا اے
ھو نے انج  ونڈیاں سوغاتاں 
مٹھا میوہ شہد نال پیندی جاواں
جام دے جام میں لیندی جاواں
نیندر ایناں جاماں نے لٹیاں نیں
نچاں ھو دے نال میں فر وی نہ رجاں ھو !

تفریق

0 comments
اس دنیا میں تفریق نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا ۔ اصل سے جب عکس جدا ہوا تب دوئی کا آغاز ہوا ۔ یونہی فرق نے اپنے ضابطے بنالیے ۔ جس کا سایہ نہیں وہ نور ، جس کا سایہ وہ خاک ، جسمیں خاک ہے اسمیں نور سمایا ہے مگر نور میں خاک نہیں ہے ۔ احساس میں بے حسی شامل ہوجاتی ہے مگر بے حسی میں احساس نہیں ہوتا ہے ۔ سجدے کے لیے جھکی جبیں نیازیں دیتی یار کو پکارتی ہے تو اسکی پکار سے پہلے اسکا ذکر پہلے سے شروع کرچکا ہوتا ۔ محبوب تصور میں تصویر لیے بیٹھا ہے اور خیال میں زندگی بسر کرتا ہے جبکہ زندگی بذات خود ایک خیال ہے اس سچی ذات کا جسکے تخییل کی یہ کرشمہ سازی ہے ! وہ مصور ہے اور ادھر دنیا میں چھوٹے چھوٹے مصور ہیں ۔ اسکا بھلا کسی سے کیا مقابلہ ! کیا مقابلہ کہ اسکے الفاظ کے جوڑ توڑ میں اسطرح کی کرشمہ سازی ہوتی ہے ، ایسا اثر ہوتا ہے ان میں کسی عروض کے بنا موسیقیت  سے بھرپور ہوتے ہیں ۔ کسی شاعر کی موسیقی کا اس سے کیا مقابلہ ! ہم نے اپنے اپنے صنم تراش کے اسے ڈھونڈنا چاہا اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق 
خدا کو پالیا ۔۔۔۔


Monday, January 23, 2017

نور کے رنگ

0 comments

سننے کو ، کہنے کو بہت کچھ ہے مگر الفاظ کا کال پڑگیا ہے ۔ جذبات کی شدت میں کمی آگئی ہے ۔ ظاہر میں صنم اور ہے ، باطن میں صنم اور ہے ۔ سوچ اسکی ہے ، خیال میں ہوں جبکہ میرا خیال کوئی اور ہے ۔ اوپر جلوہ کناہ ، اندر جلوہ گر ہے ۔ اسکو اپنے جلوے کی قسم ہے جب اسکی محبت کسی شیشے میں دھندلاجاتی ہے تب آئنہ اپنی وقعت کھو دیتا ہے ۔ ہر ذی نفس چراغ نور میں لپٹا ہوا ہے مگر نورِ لطافت ہر کسی کے لیے مختلف ہے ۔ مصور کمال ، صنم تراش اپنے کئی رنگ لیے ہوئے ۔   سرخ رنگ کو ہم جلال سے تشبیہ دیے دیے تو نیلا رنگ  ہجرت کے دکھ کو ظاہر کرتا ہے۔جب کسی بندے میں یہ رنگ ملے تب اسکو صاحبِ حال بندے کہنا مناسب ہوگاکیونکہ اسکے اندر ہجرت کا دکھ ایسے جذب میں مبتلا کیے دیتا ہے جس سے ہر وقت مالک یاد آتا رہتا ہے یا مالک اسکو اپنی یاد دلاتا رہتا ہے جبکہ نیلا اور سرخ مل کے سبز بنتے کمال کا رنگ بنتا ہے بالکل اسی طرح کمال کے رنگ جمال کے رنگ سے مختلف ہیں ، جمال کا رنگ سپید ،  مگر چمکتے چاند کی مانند ہے ۔ مصور کے رنگوں کی دلفریبی نے کائنات میں فرق کو جنم دیا ہے ۔ کہیں پر سرخی زیادہ ہے تو کہیں نیلاہٹ زیادہ ہے تو کہیں پر سبزہ زیادہ ہے جبکہ کہیں پر نور ہی نور ہے ۔۔۔یہ اسکے رنگ ہیں جو کہیں کہیں کسی نہ کسی بندے میں جھلک کرتے ملتے ہیں ۔ کوئی اللہ کے بندے صاحب جمال ہوتے ہیں تو کوئی صاحب کمال ، تو کوئی صاحبِ جلال   تو کوئی صاحبِ ملال ہوتے ہیں 

Friday, January 20, 2017

پھول سارے گرا دیے، اب ہے

0 comments
پھول سارے گرا دیئے، اب ہے
واپسی کا سوال لا یعنی

تیرا احوال ، کیا کہیں بُلبُل
گل کی ہے داستان با معنی

زندگی نے  بسر کیا ہے مجھے
اور کتنی کرے گی من مانی

زہر دے کے مجھے نہ   مارو تم
تیری باتوں سے جان ہے جانی

زندہ ہوں زندگی کے پیوند میں
شام چھائی ہے رات کب آنی؟

ہم ہیں اپنی روایتوں کے اسیر
پیروی ہو جہاں میں! چہ معنی

موت کے بعد زندگی کیا ہے
ہر گھڑی چوٹ اِک نئی کھانی

لیلی ، مجنوں

0 comments
اکھیاں بیباک ، دِل مُشتاق ، حُسن بے حِجاب ، نِگاہیں شَراب ہوں  تو  اِظہار کے لیے لفظ نایاب ہوجاتے ہیں۔میرے سامنے ساجن بیٹھا مجھ میں گُم ہے  اور میں خیالات میں محو ۔۔۔ !چھن۔۔۔ ! چھن۔۔۔! چھن۔۔۔ ! کسی آواز نے پَلٹ کے خیالات کے شیشے پر دراڑ ڈالی ، امکان سے ایک اور انجانی دُنیا میں داخل ہوگئی ۔

'' آج تُمھاری لیلی تمھارے عشق کے سَحر میں جکڑی ہوئی ہے ۔ تمھارے عِلاوہ کچھ دکھ نہیں رہا!نظر سے تاحدِ گمان تم ہی نظر آرہے ہو ! ''

''خود بیتی کو بھی لفظوں کی آذری کی ضرورت ہوتی ہے ، گُلاب کی خُوشبو ، جگنو کی َچمک اِظہار ہے ، اگر بتی کی مانند خیال کو ڈھال کے آج میری شبیہ تراشو ! میں تب مانوں گا کہ تمھاری محبت میں دم ہے ۔۔۔ ! مدھم  مگر سُلگتی ۔۔ آہہہہ ۔۔۔۔! جب اس خوشبو کی حدت کو اندر تک اُتاروں تو عدم تک سفر ہو ''

سُنو ! بانورے !
''آؤ ! جھیل کے اُس کنارے چلیں ،جہاں پر چلمن کبھی اٹھیں نا ! لب ہلیں نا ، خامشی کی تکرار ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ہم ایک دوسرے کو جان جائیں ،پہچان جائیں ''

کچھ بیقرار پلوں نے لمحے کو قرار دیا ، روشنی نے عدم کا احساس دِیا ،گُلاب لمحوں نے خُوشبو کو فضا میں جانے دِیا، عنبر ، عطر اور مشک نے احساس کے نتھنے پُھلا دیے ، اور ذی ہوش کو مدہوشی نے تھام لیا۔

'خالی ہاتھ میں خُوشبو ، خالی نِگاہوں میں مستی کا جام اور کَلام میں مٹھاس ۔۔۔۔ ! خالی رہنے سے یہ احساسِ محبت تا ابد قائم رہے گا ''
دی تم نے ہمکی مئے کی پیالی ، کردیا اندر سے خالی ، باہردُنیا بھی خالی ! وہ گُنگنانے لگی



''عشق میں عدم ، عدم میں خود کو چھوڑ آئی ہوں ۔۔۔۔ذات کے طواف میں سدھ بدھ چھوڑ آئی ہوں۔۔۔۔مئے ایسی پلائی ساقی نے  کہ بنادیا ساغر کو میخانہ ۔۔۔۔پیمانہ ملا پیمانے سے ،میخانے کو مل گیا میخانہ۔۔۔مست و بیخودی نے عشق کی چادر پہنا دی ہے
بیخودی میں بیخودی چھوڑ آئی ہوں۔۔۔۔۔''


دھیمی ، ملائم ، مدھم ، غمگین ، پُرسوز آواز میں نشاط آوریں نغمہ سنتے وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔ جھیل کے کنارے بیٹھے مٹی کو مٹی سے صاف کرنے لگا مگر خاک خاک میں کہاں تھیں ۔۔۔ (شاید وہ اُسے ڈھونڈ رہا تھا  ، جسکے نغمہِ آہو نے اس کو عدم امکان میں گھسیٹ دیا تھا) وہ تو نا جانے کن پرکیف لمحات کی مرہونِ منت کسی انجان دیس میں بھٹک رہی تھی ، شاید اپنے ساقی کو ڈھونڈ رہی تھی ، جو ساقی ،امکان سے عدم امکان کی انجانی دنیا  تک لے آیا  تھا وہ جانے کہاں چلا گیا ۔ ایسا بے وفا، ایسا جفا پرور ۔۔! جتنی آوازیں دے دو ، جانے کیوں نہیں سُنتا ! بیمار ہیں ہم اسکے ،مگر مریض کی نبض کو دیکھتا نہیں ، حکیم ہے مگر حکمت سے جھولی خالی رکھی ہے ۔۔۔۔۔
اس کی ہاتھ مٹی پر دائرے سے بنارہے تھے

وہ دائرے بناتے ہوئے مجھے دیکھتا جیسے یہ دائرے میرے لیے بنارہا ہو.. ایک بہت بڑا دائرہ بنانے کے بعد مجھے بُلایا! میں اس دائرے میں اس کو کھڑا پارہی تھی ! میرا مجنوں مجھے بلا رہا تھا .میں نے اس کے پاس جانے سے پہلے دائرے  کو دیکھنا اور اس پر چلنا شروع کردیا اور معلوم نہ ہوسکا میں آہستہ آہستہ  تیز تیز گھومنے لگی ہوں   ... مٹی مٹی پر ڈھیر ہوگئی اور محبت پرواز کرگئی . مجنون اطمینان سے یہ منظر دیکھ رہا تھا جیسا کہ اس کا مقصود یہی ہو

یک لخت -------کائنات -----زمین میں زلزلے شُروع ہوگئے ! جیسے زمین اپنے محور کے گِرد بہت تیز رفتار سے رواں ،جیسے اس کا کوئی ُپرسانِ حال نہیں ہے ،جیسے اس گردشِ محوِ رقصِ بسمل کا ساقی کو خیال نہیں ! شاید ساقی نے بیخودی کی مئے خود ہی عطا کی ہے ! شاید یہ حال جو عشق و شوق کی فتنہ گری ہے وہ اِس سے بھی با خبر ہے ! اس گردش نے ایک ماوراء دائرہ ان دونوں کے بیچ کھینچ دیا ،جیسے وہ اس دائرے میں مقید ہیں ----یہ ہالہِ نور، روشنی ، مہک ، خُوشبو سب عناصر بادِ صبا میں مقید ہوئے اور ایک دائرے کی صورت گردش کرنے لگے ۔ یہ عناصر دونوں کے درمیان حائل فاصلے کو ختم کیےدے رہے تھے ۔ فاصلہ صَدیوں پر محیط ، زمانوں کی گرد نے اس خُوشبو کا راستہ روکنا چاہا مگر  یکایک دو روشنیاں ملیں ، بجلی کڑکی ، ایک شعلہ کوندا اور خوشبو چار سُو پھیل گئی ۔  لیلی پرواز کرتے آسمانوں کی جانب گامزن ، اس کی طرف دیکھ رہی تھی جبکہ مجنون اس کو دیکھے جارہا ، جیسے سُوچ رہا ہے کاریگریِ حسن نے کا کمال ہے یا عشق کا فُسوں ہے ! 


''اے ہم نفس اوجِ کمال حُسن تم پر ختم ہوگیا ، رات کو رُواں رُواں تم میں گُم ہوگیا ، حسن چاندنی میں مدغم ہوگیا ۔ ذات سے باہر بھی تم ہو! ذات کے اندر بھی تم ہو ! تم مسکُراؤ تو بارش برسنے سے پتوں کی سرسراہٹیں سے پیدا ہونے والی موسیقیت دل کے تار چھیڑ دیے ''


عشق کی زنجیر میں بندھا مجنوں فلک پر لیلی کو جاتے سوچتا رہا کہ وہ بھی  دُھواں دُھواں ہوتی لیلی کی پرواز میں فنا ہوتا جارہا تھا ۔نظر اس گمان میں گیان سے وجدان تک گئی اور لیلی جھرنوں  سے گرتے پتھروں کے پاس بیٹھی تھی ۔ اس کے سامنے مجنوں کھڑا تھا ۔وقار اور متانت کا لبادہ اوڑھے  ، اندھیروں سے مبرا ، روشنیوں سے بھرپور ، رعنائیوں کا مجسمہ ، سراپا جمال ، سراپا کمال ۔۔ لیلی کو اس کے سامنے اپنی آپ کم لگنے لگا کہ یہاں تک کہ مدھم ہوتے ہوتے گُم ہوگیا اور باقی مجنوں رہا۔مجنوں یہ تصویر کمالِ حسنِ پر حیران اور خوشی سے سرشار ہوا کہ اس کا وجدان لیلی کے وجدان سے  اس طرح مل گیا ہے کہ اس کے پاس اس کا خیال اور مجنون کے پاس لیلی کی تصویر ہے ۔


دِل میں بس  جو  گیا ہے تو جاناں
دکھتا  ہے اب تو ہی چار سو جاناں
نور  سے چمک رہے ہیں آئنے
آئنے کو  آئنے میں ملا تو جاناں
دو آئنے روبرو ہوئے جب
فرق  مٹ گیا ، باقی رہا تو جاناں
شمع کو جنون میں گرفتار کیا
آئنے کو ملی تم سے ضو جاناں