Saturday, June 23, 2018

کشش

0 comments

کشش ہے  .. کشش آج رات چاند رُوشن کِیے ہوئے ہے.. اللہ نور السموت ولارض کی منقش آیت نے آنکھ نم کردی ہے.  آنکھ باوضو رہے تو ہجرت یاد رہتی ہے . رات ہے کہ دن؟  رات کہ روشنی چاند کی ..چاند کہیے کہ طٰہ!  طٰہ کہیے کہ یٰسین ... طٰہ تو  وہ روشنی ہے جو طور سینا کے پاس جلتی روشنی ہے ... یہ سرمئی نور ہے جس نے رحمت للعالمین کے نور کو مقید کیا ہوا ہے.  جب طٰہ کا خیال آئے تو سر سبز گنبد نور بھرتا ہے.. تو درود نہ پڑھنا کنجوسی ہوگی ....
الھم صلی علی محمد وعلی الہ محمد وسلم ... ...
وہ روشنی ہے افق کے پار،  افق پہ مجھے منور کیے دے رہی،  بیخودی کی قبر میں زندگی مل گئی ہے . ابدیت کی چادر مل گئی ہے جیسے سفید کفن پر گلاب پھول خوشبو بکھیرتے ہیں ... نفی نفی سے زیرو ہوتا ہے زیرو سے نفی کا حساب ...نفی کا حساب شروع ہوتا رہتا ہے اور خوشبو بڑھتی رہتی ہے
اے نفس!  اے زمین زاد ... دل جو کچھ ہے وہ روشنی ہے جس روشنی ہے وہ دل ہے دل ہے دل میں بستا ہے جو دکھتا نہیں ....

مٹ جاتے اچھا تھا. فنا ہوجاتے اچھا تھا!  لا .... لا کی ستون بنتی مٹی پر الا اللہ کا پہرا ہوتا اچھا تھا! 
الست بربکم کی صدا کے بعد اس نے کہا ...
فاذکرونی اذکرکم
جب ذکر کرو تو معلوم ہوتا ہے کہ اپنا ہی ذکر ہو رہا ہے جب علم ہوتا ہے تو سمجھ آتی ہے کہ
ورفعنا لک ذکرک کی صدا میں الہام کیا ہے!  رنگ چڑھ جاتا ہے،  جلوہ ہوجاتا ہے، روشنی مل جاتی ہے. شبنم جب گلاب کی پتی پر گرتی ہے تب کلام کرتی ہے ... پھول نکھر جاتا ہے ... جب اس نے "میں ... تو " کا فرق نہیں رکھا ..نور کا رنگ بھی ایک ہے،  نور کی اصل بھی ایک ہے،  نور کی چادر بھی صفاتی ہے ہے!  صفات کا کل " الرحمن " حرف میں مخفی ہے!

     اک رنگ پر اترا نور سب پر  تو منقسم بھی ہوتا گیا ...کہیں نیلا ہوا تو کہیں  زرد کہیں  نیلگوں تو کہیں مرجان جیسا تو کبھی یاقوت کی مانند ... یہ جب نور تمام پیامبروں سے ہوتا یکجا ہوا تب میرے نبی صلی علیہ والہ وسلم کے نور نے خاکی وجود میں کرسی سنبھالی ...  وہ نور جب ہوا ظہور تو فرمایا

الیوم اکملت ...... کامل آگیا ... کامل ہوگیا سب کچھ ... جو ذات سب پر پوشیدہ رہی .. جس کا ظہور کہیں جزوی ہوا وہ معراج کی رات مکمل عیاں تھی تب مالک نے کہا تھا کہ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گئی ... وہ جو گئے تو نور جو ہم سینوں میں پوشیدہ رکھتے ہیں وہ نور جو دلوں میں طٰہ کی تجلی سے درز درز سے ہوتا روشنی کیے دیتا ہے تو کہیں وہ مزمل کی تجلی سے سرنگ سرنگ وا ہوتا ہے زمین زلزلوں میں آتی ہے تب چادر سے ڈھانپ لیتا ہے تو کہیں وہ خود ظاہر ہوتا ہے تو مدثر کی مانند روشنی کرتا ہے تو جہاں جہاں وہ نظر کرتا ہے تو سویرا ہو جاتا ہے ... وہ روشن صبح ہو تو مدثر کہوں وہ رات اک روشن ہو تو مزمل کہوں ..وہ دوپہر کی روشنی ہو تو طٰہ کہوں وہ وصل کا شیریں شربت ہو تو یسین کہوں .... میں کیا کیا کہوں ایسے ........... کیسے کیسے ذکر بلند کیا اور کہا ذکر کرو میرا ... اس سے بہتر مجلس میں تمھارا ذکر کروں گا ....
ملائک نے کہا  مالک گناہگار بندہ ...نائب کیا ہونا ... مالک نے کہا جو میں جانتا وہ تم نہیں جانتے ... اس نے تجلیات سے منور کیا سارا جہاں تو صاحب الرحمن نے کسی کو الروف کی صفت دی تو کسی کو علم العلیم کے خزانے سے ملا ...کسی کو جلال کی روشنی نے مجنون کیے دیا تو کوئی جمال میں پوشیدہ ہوا تو اس کو میرے نبی کا جلوہ مل گیا ... صلی اللہ علیہ والہ وسلم .... روشن جمال یار نے روشنی کی ہے زمین سیاہ تھی .. زمین پر سورج کی روشنی کی ... خالق نے اسی روشنی کی قسم کھائی کہ یہہ روشنی  ہمارے سینوں میں ہے ... سینہ ہے کہ خزانہ ہے ... خزانہ ہے کہ کوئی فسانہ ... ہم کیا جانے بس وہ جانے وہ جانے .... وہ کہتا ہے کہ زندگی گزر جائے گی آنکھ کے پسینے میں ... تو گزر جانے دو ..  وہ کہتا ہے موم پگھل جائے اک بار پھر ..روئ ذرہ کی مانند بکھر جائے گا تو کہیے کہ اچھا ہے!  اچھا ہے!  اچھا ہے کہ بکھر جائیں .. جو رہے وہ تو بکھر جائے یکجائی کیسی .. جہاں جہاں اس کا جلوہ اس سے مل جانا اچھا ..

Friday, June 22, 2018

طائرِ شوق

0 comments

تو طائر شوق ہے،  پرواز میں مگن ہے ...میں ناسوتی میں  پروردہ ہوں،  پستی میں سوالی ہوں ....
تو مقام سدرہ پر سوال لیے ،  تو کہاں ہے کدھر ہے ہستی؟  بتا تو سہی ؟ 
میں طائر سدرہ عرش پر مکین.ہوں ...! 
میری ہستی خالی اور میری ذات سوالی
تو شعار مومن،  پیمبرِ یقین
میں زوال کی داستان،  میں حشر میں گُم
یہ ہستی یہ بستی یہ لطافت میں گم ارض و سما!  تو خالی!  تو خالی ...
میں ازل سے سوال لیے اوج ابد کی جانب
میں چھاؤں میں مقید تری روشنی ہے عالی ...
تو خالی!  تو سوالی
تو عالی!  تری شان نرالی

تو حجاب میں ہے نور کی دید میں مگر کہ گُم
تو شوقِ  سے پُر،  میرا فرمانِ لن ترانی
میں خالی مگر تو ہی ہے مقید،  نہیں کہیں اور  برتر
تو شکوہِ،  تو سوال،  تو حجاب،  تری کیا داستان؟ 
میں داستانِ ازل ہوں،  مین تجھ سے خلق ہوں،  میں مٹی سے علق ہوں ..میں اک پستی میں مقم طائر
تو طائر سدرہ ہے!  تو کہاں؟  کہاں کھوگئی ہستی تری! 
میں انوار کی حدت میں،  میں شدت سے پھر بھی عاری .. لینے کی طلب،  تری عطا بے حدو حساب
تو عالی تری شان نرالی
تو منجمد مانند برف، تو خشک مانند صحرا... برقِ نور سے ترا روزنِ دل منور ہر اک!  تو منور کہ معجل!  مری حکمت ہے نرالی
میں خالی تو عالی. میں سوالی تو  یکتا .. تو حجاب ازل سے ابد تک کا کھٹتا ہوا فاصلہ ... توعصائے کلیمی!  تو حسنِ یوسف میں پنہاں!  تو روح کے اسرار کا کلمہ!  تو رجمن و رحیم!  اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم!  میری ذات شین میم!  میں عشق کا ہوں قاف سین!  میں خالی!

Wednesday, June 20, 2018

دھیان

0 comments

میرا دھیان کہاں تھا؟  یہ تمھارے ہوتے کہاں تھا؟ میں تو مرگیا تھا، جہان تھا!  جب تم ہوئے عیاں تو میں نہاں تھا. یہ زمین تھی سر سبز میں رک گیا اور رک گیا وہاں جہاں تھا .... فاذکرونی اذکرکم ...
اس کا ذکر کیا ہے .. درود کی چادر، سلام کا تحفہ، عقیدت کے پھول، ادب کی خوشبو،  احترام کی روشنی ... غلام تو انسان ہے ... عبد ہوتا نفی کا کلمہ پڑھتا ہے جب کہتا ہے اس کائنات میں سب سے بڑا بُت "میں " کا ہے ... فاش ہوگیا!  ٹوٹ گیا ... لا ادا ہوگیا ...

سرمد گزرے تھے اک ... مسلمان ہوئے مگر لا سے آگے کلمہ ادا نہیں ہوتا تھا.  فرماتے تھے ابھی نفی میں گم ہوں اثبات کیسے کروں ... منصور تھے اک ایسے جو اثبات کی موجوں میں بہ گئے ... انا لحق کا نعرہ لگایا کہ فرات کا دریا سرخ ہوگیا ....

لا ادا ہوتا نہیں ... ہوجائے تو ادا تو سنبھالنا مشکل کہ جو ذرا سی پی کے بہک جائے،  اسے میکدے سے نکال دو ... مسلمان تسلیم کرتا ہے کلمے کو اور مومن ادا کرتا ہے کلمے کو ...نفی کامل ہوتی نہیں ہے ہم پڑھتے ہیں نماز ...کس کو پوجتے ہیں؟  اپنا صنم اندر سانپ کی مانند کنڈلی مارے بیٹھا ہے وہ کیسے ملے؟  وہ ملے تو ہوش نہ رہے نا .. 

جناب سیدنا علی رضی تعالی کی نفی ایسی کامل تھی کہ ہوش نہیں رہتا تھا کہ کس نے  وار کیا،  کس نے زخم پر مرہم رکھا .... یہ خدا ملتا نہیں تو نماز نہیں ٹکر ہوتی ہے .نماز آنکھوں کی ٹھنڈک کیسے بنے؟ 
حدیث قدسی ہے کہ
من ترک الصلوت متعمد فقد کفر

جان بوجھ کے چھوڑنے کا سوال تو تب آتا ہے جب خود سے پوچھو نماز ہوئی بھی کہ نہیں!  وہ جو اک پل اس کے ساتھ خالص بیتا جائے اس نماز سے بہتر ہے جہاں تصور میں دنیا چل رہی ہو ...

دنیا بس مٹی کا کھیل ہے ... اس مٹی سے نکلنے کی کنجی بھی لا ہے .. علم ہوتا جاتا ہے کہ خالق نے کس لیے پیدا کیا ہے .....

جمعہ کی ساعتــــوں میں باعث سعید گھڑی

0 comments

جمعہ کی ساعتــــوں میں باعث سعید گھڑی ـــــ 
جب قلب سے درود رَواں ہـــوجاتا ہے ..... 
درود الفـــــاظ کــا مجمـــوعـٌـہ جو دل کے فـــانوس کی روشــنی کو زیتـــون کے تیل سے مالا مال کیے دیتا ہے ...نرم ہـــوجاتی زمین....
 تو تجلیات کا ظہور ہوجاتا ہے ....
مکے چلوں ...؟ یا کہ مدینے پاک؟
کیسے پائے خاک سرزمین حجاز میں رکھوں؟
سر کے بل کیسے چلو؟ خوشبو کیسے پاؤں؟
خوشبو اس مٹی کی جس نے پائے ناز شہ ابرار کی قربت سہی ...
سر پر ڈالوں یہ مٹی کہ اعجاز زندگی کا پتا چلے ی
نور علـــــی نور کے سلاسل ہیں سارے
یہ حسن رض و حسین رض پھول علی کے دلارے
فاطمہ رض زوجہ علی، امِ حسنیــــن، بنتِ محمد ص
وہ پر نور خدیجہ رض سراپائے بزرگ، سفید چادر جن کا ملبوس ......
وہ بو بکر صدیقِ اعظم ....شہِ جمال، حبیب کبریاء
فضا سنجیدہ چشم نمیدہ ... دل آویز شاعالی سیدنا محمد صلی علیہ والہ.وسلم کی صورت .....
اے نــــورانــــی ہـــالوں ... دل میں اجالا کرنے والو ....
اے حیات جاودانی کے سر چشــــموں .....
دل میں تمجید اترتی ہے جوں جوں ملتی ہے توحید
شوق وصل سے وصل تک ہر کسی کو ملتی نہیں توفیق
سلام سلام سلام
یا حیدر عالی وقار سلام
یا حیدر علم کے علم کے سردار
اے حبیب کبریاء، محبت کی رکھ دی بنیاد ..یا بوبکر سلام
ہستیاں جتنی بھی ہیں اپنی سب کو سلام ..

ھــــــُو کے عالم میـــں سکوت لالـــہ و گـُل دیکھنے والے،

0 comments


ھــــــُو کے عالم میـــں سکوت لالـــہ و گـُل دیکھنے والے، 

، جلــــوہِ ہست میں مســـت خـــــــوش گــــــلو رہنے والــــے
دســـــتِ آرزو کے خـــالی پن کو سے حـــــق سے بھرنے والے،
عصیاں، داغِ ندامت کو اشکوں سے مل مل کے رونے والے 
کہاں ہیں؟ کیسی آرزو ہے جو نڈھال کیے دیے؟ سرزمین طوی پر ننگے پاؤں چلـــنے والــــے، کیسی آرزو ہے جو باقی ہے؟ 
از بقائے ہست تا انتہائے نیستی کیا بچا کچھ؟
از انائے ازل میں بس کے اوجِ ابد کے متمنی کو چاہیے کچھ؟
یہ ندامت جو بکھر گئی اشکــــوں کے ایندھن میں، اجـــــال دیتی ہے ہستیِ نور سے دل کو ....... کیا دل میِں گلِ و لالــہ سے خوشبـــــو نے معکوس نہیں دیا؟ 
تراشوں ہیرے کو بار دگر تجلیات سے، انــــوارات سے ....کیا چاہیےاور؟
 تفریقِ مے کو مٹانا چاہے، پیـمانہ، میــخـــانے کے جیسا چاہیے

Friday, June 8, 2018

مُجھے خُدا نَہیں مِلتا

0 comments

مجھے خدا نہیں ملتا! اس کو مجسم جلوے کو پانا دور کی بات، مجھے اُسکا عکس نہیں ملتا!  اس کی جانب لُو کی تو وجود دُھواں ہوگیا مگر اسکا احساس تک نہیں ملتا. مجھ میں ملوہیت کو مٹی میں گوندھا گیا ہے.  یہ ملمع کاری کے رشتے مجھ سے نبھیں گے کیسے جب اصل سے تعلق نہیں جڑتا.  قران پاک کے ورق ورق میں آیت آیت نشانی.  اس نشانی کا مجھ پر عکس نہیں پڑھتا کیونکہ اندھا دل سنے گا کیا!  دیکھے گا کیا؟  جہالت میں مجھ سے آگے نکلتا نہیں کوئی مجھے علم دیتا نہیں کہ مرا نفس شیطان سے ساز باز کرلیتا ہے. 

خُدا کیسے ملے گا.  ہم سُنتے ہیں خدا جستجو سے ملتا ہے اور عکس محِبوب بندوں میں ملتا ہے. محبوبیت کے اعلی درجہ پر فائز ہستی سے کون مجھے ملائے گا؟  میرا نفس؟  یہ بُہت کمینہ ہے، بُہت جاہل ہے، اس کو کیا آداب محافل کے ...

مگر وہ تو کہتا ہے وہ جو کرم کرے تو دِل میں سَما جاتا ہے. دل سے دنیا تک اسی کی صدا لگتی ہے. وہی انسان کا بُوجھ اٹھالیتا ہے اس کو صدا دیتے کہ میں ہوں اس بندے کے پاس جو صدائیں لگائے

بندہ یہ صدا سنتا نہیں کیونکہ سماعت سے دور اپنی دُنیا کی اندھیر نگری میں گُم رب سے بے نیاز ہوجاتا ہے. رب سے بڑا بے نیاز کون ہے؟  بندہ کیسے کیسے الزام رب پر دھر جاتا ہے مگر وہ لازوال مامتا کا حامل بار بار اپنی جناب میں لیتا ہے "آجا، تُجھے سنبھال لوں، تو میری امید کے جُگنو سے پروان چڑھا، تجھے شمع کی ضوفشانی دکھادوں، تجھے اصل شمع سے ملا دوں ...

بندہ ڈرتا رہتا ہے کہ وہ تو دل کو منور کردے گا مگر اپنی ملوہیت کو الوہیت سے منسوب کردے گا اور منصور کیطرح نعرہ انالحق کا سزوار ٹھہرے گا. وہ تو ہر ہر شے میں مُجلی ہے. اشجار میں،  پہاڑ میں، پانی میں، ہوا میں، ریت میں، مٹی میں، زمین کی کھیتی میں،  آسمان میں، ستاروں میں، ابحار میں، طیور میں.... اسکی تجلی کی صفت ہر اک شے میں معکوس ہے مگر معکوس کا اصل کہاں ہے؟  وہ کہاں ہے؟  تجلی صفاتی کہاں ذات سے ملتی ہے؟  تلاش کے تمام پارے جب اک قران کی صورت بنیں گے تب وحدہ لاشریک ظاہر ہوگا

Monday, June 4, 2018

عشق کی لٗو

0 comments
عشق کی لٗو

عشق کیا ہے؟ یہ کیوں ہوتا ہے ، اکثر سوچتی ہوں
عشق مورے نینا  لاگے ناں ، جس تن لاگے وہی جانے رے
جلتا ہے کپڑا ہے تو راکھ  بچتی ہے
دُھواں اڑتا ہے، آسمان کو اپنی کالک سے روشن کرتا ہے
تم نے افق پر وہ نام دیکھا ہے
کون سا نام؟
ارررے ! وہی جسکو پل پل یاد کرتی ہو
اچھا ، وہ جس نے تن من کی چادر میں اپنی خوشبو بسا دی ہے
ہاں ، وہ ملا بھی نہیں مگر  لاگے کہ ہم کب سے ساتھ ہیں

وہ ہوتا ہے تو میں رقص کرتی ہوں ، ایسا رقص میری روح کو سرشار کیے دیتا ہے
تو پھر فلک کی روشنی کیوں بن گیا ؟
یہی تو عشق کا المیہ ہے ، یہی تو حادثہِ عشق ہے ، جس کو سپردگی دی ، اسکو دُور سے دیکھنا  بھی بہت سانحوں بعد نصیب ہوا ہے
کہاں ملا تھا؟
وہ ازل کا ساتھ تھا ، جسم میں قید تھا ، اسے چھو نہیں سکتی ، حصار جان کے حلقے سے دور رہتا تھا
ہہہہم ،یہ لگن کا ساتھ ہے ...
ہاں ، وہ چاند جب من کے دریچوں سے جھانکتا ہے تو جوار بھاٹا لاتا ہے
اسی تڑپ میں سسک رہی ہو
ہاں ، اس سے ملنے کی لیے تڑپتی ہوں مگر وہ جھلک دکھا کے غائب ہوجاتا ہے
وہ دیکھو .. وہ سامنے جا رہا ہے ، جاؤ اس کے ساتھ ہو لو..
سُنو .. یوں نظریں چرا کے کیوں جاتے ہو ! تمھاری آنچ سے وجود جل گیا ہے اور تم یوں کتراتے ہو جیسے دیکھا ہی نہ ہو
دیکھو ! ملن ہوگیا تو غضب ہوجائے گا ، رات کا وصال کئی صبحیں بنجر کردے گا ! زلزلے آجائیں گے ذات میں
ہم تو عاشق آپ کے ،ہمیں کیا پروا
زمانے کی پروا نہیں کرو گی ؟
زمانہ ....، زمانے کی؟ انہووو ! زمانے نے ہماری کی
ولی نے اسے دیکھا غور سے اور  مزید روشن ہوتا گیا ...
دیکھو میری طرف... تمھاری محبت مجھے روشن کرتی ہے ، میری سیاہی بھی روشن ہے اور تم روشنی میں سیاہی مانگتی ہو؟
ہمیں تو آپ سے عشق ہے اتنا جانت ہیں، ہماری آنکھ میں  عکس تصور آپ کا ہے ، ہمارا انگ انگ آ پ کے نام سے روشن ہے
جاؤ اس محبت کو امر کردو !  جاؤ ، محبوب کی بات مانو .... جاؤ اس کو   پاک وجود کو ناپاکی سے الگ کردو ..
ولی نے دیکھا ... اس کا وجود  آگ اگلنا شروع ہوگیا اور وہ رقص کیے یہی کہے جارہی تھی
تمھارا رنگ رنگ لیا ، اب کاہے  کو جائے ریں
چشم و زدن میں اسکا وجود جل کے راکھ ہوگیا اور روح اس راکھ سمیت  مرغولوں میں بلندی کی جانب جانے لگی
نہ ولی اس میدان میں نہ اسکی غزل مگر فلک پر دھواں ہی دھواں تھا

لفظ فہم میں نہ ہوتے، تو کیا کرتے

0 comments

لفظوں کی ہزارہا اقسام ہیں: کچھ خوشی و شادی کا بیان، کُچھ حسد، کینے کی جلن لیے، کچھ صحیفہ کی مانند دل میں اُترتے ہوئے، کچھ الہام کی مانند سینہ کھولتے ہوئے، کچھ کلیمی کی ضرب لیے ..کچھ خالق کا امر بنتے ازل کا حُکم رقم کیے ...کچھ لفظ جھوٹے ہوتے فریب دیتے ہیں تو کچھ حیات کا فلسفہ لیے،

لفظ لفظ تری آیت ہے
آیت سے آیت جڑی اک خزانہ
جوڑوں ان کو تو کبھی دیکھوں توڑ کے
سمجھ آنے لگے تو سر دھنتی رہوں میں
لفظ ترے ملحم ہوتے رہتے ہیں
نرم زمین ہوتی ہے تو روشن فلک ہوتا ہے
بارش ہوتی ہے آشیانے پر تو برق بھی گرتی ہے
موت کے بعد نیند ملتی جاتی ہے
یہ صدائے غنود، چھارہی غنود
یوں جیسے کہ مٹ رہی قیود
ذاکر کب سے ہیں محوِ سجود

آیت آیت کی مانند اک اک لفظ ہے جو لفظِ قران ہے. قران صحیفہِ الہامی ہے جب دلوں میں اُترتا ہے تب رقت سے دلِ موم کو کچھ سُوجتا نہیں مگر کہ سجدہ کیا جائے ...

اللہ کی مثال نور کی سی ہے، نور کو ہر زمین و آسمان کی ہر شے کا لازمہ قرار دیا ہے. وہ آسمانوں زمینوں کا نور ہے. قران پاک کے آفاقی الفاظ ہر شے (جاندار، بے جان) پر یکساں پورا اترتے ہیں ... انسان بھی مثلِ نُور ہے کہ اس میں حجاب در حجاب نور پوشیدہ ہے.....نور کی مثال درخت کی سی ہے یہ شجر سے فلک تک اور فلک سے نور تلک ..........، فلک پر نور کا چراغ ہے .. یہ فلک ہی ہے جو اک طاق کی مانند ہے، جس کے بُلندی پر ایک روشن ستارہ ہے ...اس روشن ستارے کو شجر ِ زیتون جوڑتا ہے...گویا انجیر کا درخت توانا زیتون کے پتوں سے حاصل تیل سے ہوتا ہے. تب برق نور سے کلیمی حاصل ہوجاتی ہے ..یہی زیتون کا تیل ہے جو بنا آگ کے برقی نظام کو چلاتا ہے تو کبھی اس سے ایسی چنگاری پیدا ہوتی ہے کہ دیدِ خدا کا دعوی ہوجاتا تو کوئی کہتا ہے میں نہیں بولتا، میرا یار مجھ میں بولتا ہے ......

یہ لفظ دل پر اترے تو اک حال سے دوسرے حال کو چلے ..... یہ تجلیات جو لفظ لیے ہوتے ہیں آنکھ ان کو اچک لیتی ہے، جسم پر اختیار ڈھیلا پڑ جاتا ہے اور نرمی سے ہچکیاں لگ جاتی ہے. یہی فلک ہے جہاں ستارہِ نور روشن ہے اور اس کو سیرابی زمین سے ملتی ہے، یہ زمین کسی کی بنجر تو کسی کی سخت تو کسی کی زرخیز تو کسی کی نرم ہوتی ہے ...زمین کو پانی نہ ملے تو فلک تک رسائی نہیِ ہوتی ہے ..جب زمین پانی سے تر ہوجاتی ہے تو ذکر ِحلقہ ِِ ھو سے سب کچھ فلک کی جانب گامزن ہوجاتا ہے اور نور کو نور ملنے لگتا ہے....

لفظ جو دل پر اترے، روح میں پیوست ہوجائے تو استعارات کھُلنے لگتے ہیں .... روح سنتی ہے جب ذکر میں کلام الہی ہو .... آیات کو آیات سے ملاتی ہچکیاں لیتی ہے کہ زلزے آجاتے ہیں .. ، روح کی اثر پذیری پانی کی طرح ہوتی ہے .... یہ زیتونِ مجلی جب دھیرے دھیرے پتوں کی نسوں سے ہوتا ستارہِ سحری کو پہنچتا ہے تو رات اور صبح اک مقام پر ٹھہر جاتے ہیں ...یہیں روح سجدہ کرتی ہے جب سجدہ رکوع سے شروع ہوجاتا ہے، ساجد سر اٹھاتا ہے تو سویرا ہوجاتا ہے ... یہی مقام ہے جو طلوعِ شمس کی مانند روشن آیت ہے .....

الہامی کتاب، قران پاک کے لفظ واقعات کو ظاہر کرتے ہیں گویا شاہد بھی ہیں مشہود بھی ہیں ... یہی اسرار افشاء ہونے پر باعثِ مسرت ہوتے ہیں ...

اللہ النورالسماوات و الارض
الحمد للہ رب العالمین و سلام علی المرسلین
لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ

Thursday, May 17, 2018

رازِ حیات

0 comments


ابتدائے آفرنیش سے اب تلک جذبہِ دل پر حکمرانی کرنے والے انسان، سربندگی سے نکل جانے والے، کامل یقین والے لوگوں کو حیات دوامی بخشی گئی.جذبہِ دل پر حکمرانی کیسے ممکن ہے؟ کون اس قوی قوت پر حاکم ہوسکتا ہے؟ جذبات سے بڑی قوت حیات، اس کی تخلیق کرنے والی قوت ہے....نورِ ازل کا ربط جب نورِ حیات سے قائم ہونے لگتا ہے تب انسان کو نیابت کی سواری ملنے لگتی ہے ... زندگی کے مقصد کی تعمیل اسی مداروی حرکت میں ہے ...چاند روح میں روشنی کیے رہتا ہے جبکہ نور ازل آفتاب کی مانند جگمانے لگتا ہے تو انسان جو ذات میں شجر ہوتے سایہ دار برگد کا روپ ہوتا ہے، مثلِ آفتاب ہوجاتا ہے ...

آزاد روحیں غلامی قبول نہیں کرتیں ماسوا معبودِ حق کے .... اس لیے لگن، شوق انکے وجدان کو حرکت دیے رکھتا ہے ...یہ روم کا رومی چاند سے مثلِ آفتاب کیسے ہوا؟ کوئی شمس تھا جس نے رومی کے جلال کو توانا سرخ لہروں سے نیا جنم دیا تھا ... شمس تو ایسے رومی کی محبت میں الجھا جیسے کائنات کا حصول اسی نور میں ہے جو جلال الدین رومی کے سینے میں مدفن تھا .... شمس نے نورِ ازل کا طواف کیا اور نورِ حیات سے چمکتا نور رومی کو سونپ دیا ... رومی کے لفظوں میں دوامیت شمس کے نورحیات سے ہوئی تھی .... شمس کی تقدیر میں قربانی لکھی تھی ...

ہجرت بھی انوکھا جذبہ تھا، برق جو شمس کے دل میں چنگاری دیتی وہ شعلہ بن کے رومی کے سینے میں چمکتی تھی .... سوال یہ ہے کہ شمس تو فنائیت میں مجذوب تھا، اسکو رومی سے کیا غرض تھی؟ رومی کا کلمہ آیتہ الکرسی کی مانند عرش سے فرش تک جڑا لوحِ محفوظ کی خبر دیتا تھا تو شمس ماہِ وصال کی آبرو رکھتے فاذکرونی اذکرکم کرتے ذاکرین کی جماعت کا نائب تھا .. الم کی مثال ہستی نے کمال شوق سے رومی کی تربیت کی. یہ آدابِ گفتگو جو مثنوی میں ملتے ہیِ اسکی آگہی شمس کی دیدہِ بینا سے ملی ...

جب تخلیق کا مادہ رکھا جاتا ہے تو ذاکرین و منکرین کی جماعت ساتھ مخلق ہوتی ہے.... یہ نوری ...ناری ...آبی ... خاکی موجودات ارضی و سماوی لشکر کی مانند ہمرقاب ہوتے معاون ہوتے ہیں .... اسی نے جن و انس کو پیدا کیا ...شمس کو ذاکرین کی جماعت کا سردار بنا کے کائنات میں چاند سا کردیا ... اس کے قلب کو صیقل کرتے حدت جاودانی بخشتے آفتابی نور سے سرفراز کیا..
آخری تدو

Tuesday, May 15, 2018

Writing

0 comments

Friday, May 11, 2018

سدرتہ المنتہی

0 comments

‌ـسدرتہ المنتہی   مقام ِِ پہچان ہے .یہ  وہ مقام ہے جس سے گزر چُنیدہ لوگ کا ہوا کرتا ہے. فرشتوں کی سب سے اعلی جماعت کے سردار   بھی مقامِ سدرہ سے گزر نہیں سکتے.  یہ قیام کی جگہ ہے جس جاء سے  زاہدین،  متقین اور صالحین  گزر نہیں سکتے.  ... اس مقام سے آگے جانے کی سکت سچے عاشق، عارف کی ہوتی ہے ... عارفین کی جماعت لباس مجاز میں نور  کی مثال ہے،  جن کا حق سے وصال مقرر  وقتِ مشاہدہ ہوتا رہتا ہے .. افضل ترین انسان سیدنا مجتبی،  مصطفی، شہ ابرار صلی علیہ والہ وسلم ہیں،  وہ اس مقام سے ایسے گزرے جیسے پلک جھپکنا جانِ   عزیز کے لیے آسان ہے ...انبیاء کرام  کو معراج بھی آپ کے دم سے میسر ہوئی ... جو عاشق صادق عین حق پر راضی ہوتے، پیرویِ رسول صلی علیہ والہ وسلم پر چلا،  اس نے بھی اوج کو پا لیا...

سدرہ ....... حجاب کا پردہ ہے ...حجاب کی انتہا وہ مقام ہے جہاں حجابی.و بے حجابی کا فرق بہت تنگ ہوجاتا ہے اور نور کو کالے رنگ میں پانا گویا نور علی نور کی مثال ہونا ہے .....اِ س دنیا(سدرہ المنتہی)  کی مثال سفید روشنی کی سی ہے جس میں بحالت  خواب داخل ہونا عین حق ہے.  خواب جاگتے یا سوتے دو حال میں درپیش ہوتا ہے ..لاشعور  کی بیداری تحت الشعور سے مل جاتی ہے ....سب فاصلے مٹ جاتے ہیں. عیاں، نہاں اور نہاں، عیاں ہوجاتا ہے ..سب نظر میں ہونے کے باوجود کچھ دکھائی نہیں دیتا مگر دل میں اُجالا ہوتا ہے ...مقاماتِ عالیہ جب نظر پہچانتی، شناخت کرتی ہے  تو تکریم میں جھک جاتی ہے ...سجدہِ شکر بجالانا لازمی  ہوجاتا ہے کہ عین بیداری میں دیدار نبی کریم صلی جس کو ہوجائے، اس پر عین حق، رب باری تعالی کا دیدار لازم ہوجاتا ہے .....جس نے دیدار باری تعالی کرلیا گویا اس نے صراط مستقیم کو عبور کرلیا ...گویا اس نے حوصِ کوثر کو پالیا ... اس کی روح شافعین میں شمار کیجانے لگے گی ....

عشاق  بامثال عارفین اسوہِ حسنہ کی پیروی کرتے ہیں، گویا انکی ارواح نبی کریم صلی علیہ والہ وسلم کی پیروی میں آپ  صلی علیہ والہ وسکم کے مشابہ ہوگئیں ...سردار پیامبراں، رہنما، اسوہِ کامل کی تمثیل حق، نبی کریم صلی علیہ والہ وسلم نے مسجدِ اقصی میں جب نماز پڑھائی  تو آپ صلی علیہ والہ وسلم کی امامت کی اصحاب اجمعین کی ارواح شاہد  ہوگئیں .... گویا اسی مقام پر امام دو جہاں کے پیچھے شاہد ہوگئیں ..یوں شاہدین کے سردار سیدنا ابوبکر صدیق نے جب معراج پالی تو انکی پیروی میں تمام اصحاب نے بھی پالی ...مقام شہادت کے بعد تصدیق لازمی تھی، وہ گواہی سیدنا ابوبکر صدیق نے دی اور صدیق کا لقب پا گئے ...گواہی بھی یوں کی ادا ...

ہے :
سُبْحَانَ الَّذِی أَسْرَی بِعَبْدِہِ لَیْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَی الْمَسْجِدِ الْأَقْصَی الَّذِی بَارَکْنَا حَوْلَہُ لِنُرِیَہُ مِنْ آیَاتِنَا إِنَّہُ ہُوَ السَّمِیعُ البَصِیرُ

وہ ذات (ہر نقص اور کمزوری سے) پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصہ میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصٰی تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندہئ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بیشک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہےo

ان  رفعتوں کے بعد آپ کو احکامات دیے گئے جن میں  نماز اور شفاعت کا بطور خاص ذکر ہے ...

نماز پڑھنے سے مراد سبق سیکھ لیا جبکہ قائم کرنے سے مراد   شعور کو رب  کے حضور ختم کردیا ... باطن میں نور کے جلوہ افروز ہونے کے بعد وہ مقام آیا کہ گویا نماز  عین حق کا مشاہدہ ہے ...عشاق کو یہ صلاحیت ودیعت کردی جاتی ہے کہ بحالت نماز حواس توازن کھو دیتے ہیں ..... ان پر ناسوتی سے جبروت،  لاہوت  کے نظارے عیاں ہونےلگتے ہیں ... یہ نظارے کرنے والے شافعین کا درجہ پالیتے ہیں .... یعنی جو عاشق ہے، وہی شاہد ہے، وہی صدیق ہے ... وہی سردار ہے، وہی شافعین میں سے ہے ... میراث قلم سینہ بہ سینہ چلتی ان شافعین کو  مل جاتی ہے، سینہ تجلیات کا مسکن  بن جاتا ہے ... چار یاروں سے سلسلہ چلتے چلتے عشاق تک  جب پہنچتا ہے تو کہیں یہ مجذوب، کہیں قلندر، کہیں قطب تو کہیں ابدال کے روپ میں ملتے ہیں ....ان کے وجود  مثالی ہوتے ہیں ..ہالہِ نور  سراپے کے گرد اس قدر تقویت پاجاتا ہے کہ جسد خاکی اپنی اہمیت کھو دیتا ہے ..زمان و مکان کی قید سے آزاد سفر میں جسم کی مثال لباس کی سی ہوجاتی ہے کہ جب چاہا اتار دو تو جب چاہے پہن لو ...ایسے حال میں وجود کا سایہ انسان کھو دیتا ہے ..نور کی روشنی کا سایہ نہیں ہوتا  کہ اسکے آگے تمام روشنیاں ہیچ ہوتی ہیں
..

Friday, March 30, 2018

خیالات کی جنگ

0 comments
سب سے بڑا خطرہ اندر ہے، باہر سب اندر کا عکس ہے
اک نورانی شکل لیے بابا بولا، جس نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا ...
نہیں، سب خارج سے ہے، درون تو خارج کا عکس ..
اک بدہیئت شکل موٹا جس کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں بولا ... اس نے اپنی تلوار نکالی اور جلاد کی سی سختی لیے مارنے کو لپکا ...
بابے کے چہرے پر سرخی نے رنگ جمانا شروع کردیا .... اس نے کہا پاس حرم ہے، اک بندہ وہاں منادی کر رہا ہے، خوشیاں لے لو، غم دے دو .. تم ایسا کرو اس کے پاس جاؤ ...
کالے بدہیئت آدمی نے جونہی حرم کے اندر قدم رکھنا چاہا، واپس مڑ آیا کہا کہ ساتھ چلو ...
بابا اور بدہیئت موٹا کالا آدمی دونوں منادی کرنے والے شخص کے پاس گئے ...
ابدی خوشی لے لو، عارضی مجھے دے دو ...
یہ ابدی خوشی کیا ہے؟
دیکھ کالا رنگ اس بابے کا ہے، مگر تری کالک نے تو مجھے پریشان کردیا ... تو ایسا کر یہ فیروزہ رکھ ... اس سے تجھے خوشی ملے گی ...
کالے بدہیئت موٹے آدمی نے بابے کی جانب دیکھتے فیروزہ لینا چاہا تو پیچھے ہٹ گیا جیسے کرنٹ لگا ....
میں یہ پتھر لے نہیں سکتا، مرا قبیلہ ناراض ہوگا ... میں تو قتل کرنے کو ارادے سے آیا ہوں .. نیک خیال کو ..
تو گویا تم اک بد خیال ہو، یہ کہتے ہی ندا دینے والے تو تلوار نکالی اور خیال کا قتل کردیا ..
اب کیا ہوگا، اس کا قبیلہ تو سیلاب کی طرح بہتا جائے گا اور ہمیں نگل لے گا ... میں تو مدینہ سے کعبتہ اللہ کو دیکھنے آیا تھا، راستے میں اس کا سامنا ہوگیا ...
مدینے سے آئے ہو مکے میں، راستے میں وہم پال لائے ہو ....
یکایک کالا پانی کسی پہاّڑ کی سرنگ سے نکلنے لگا ... منادی کرنے والے نے آنکھ بھر کے دیکھا ہی تھا اک نیلی شعاع نکلی جس نے پانی کو آگ لگا دی اور وہ جل گیا ....
بابا رقص کرنے لگا .. کہنے لگا خیال پر اس طرح کی بندش ہوگی تو وہم کبھی نہیں ستائے گا ..