Wednesday, June 28, 2017

کیفت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0 comments
نور یہ جو کیفیت ہوتی ہے نا ۔ اس میں ہوش نہیں کھویا جاتا باقی دل کھنچا چلا جاتا ہے. دل روتا جاتا ہے. آنکھ نم رہتی ہے. دل کے اندر سب کچھ اکٹھا اک مقام پہ ہوجاتا ہے.                      
دل کرتا ہے بے اختیار روتی جاؤں اور نہ بھی روؤں تو آنکھ نم رہتی ہے اور یوں لگتا ہے جسے مری ہستی جہانوں ک رحمت کی جانب کھنچی چلی جا رہی ہے ۔
اس کیفیت کی ابتدا اس وقت سے ہوئی جب سے " مرشد کی زیارت " بارے لکھی کسی اشرف المخلوق کی تحریر پڑھی ۔ تحریر کے لفظ  دل میں اترتے روح کو بے چین کرتے وجدان کے آئینے کو منور کرتے چلے گئے ۔ احساس ہوا کہ زیارت پاک ہونے کو ہے
دل نے دی صدا کہ  جب بھی ہوگی زیارت پاک ان کے کرم سے ہو گی ۔
تو بس درود پاک سے دل و زبان تر کر ۔
اپنے نفس کو پاک رکھ ۔
دل کو ہی نہیں بلکہ اپنے خیال کو بھی  ہر غیر کے خیال سے پاک رکھ ۔
اچانک یوں لگا جیسے میں لپٹی ہوں شاہا کے قدموں سے اور رو رو کر کہہ رہی ہوں ۔
مجھے خاتون جنت اپنی پاک بیٹی جناب فاطمہ علیہ السلام کی کنیزوں میں شامل کر لیں ۔
مجھے لگا جیسے رحمت بھرا روشن ہاتھ میرے سر کو سہلانے لگا  ۔
آنکھ روتی رہی دل سکون پاتارہا  ۔
پیر مہر علی شاہ  یاد آئے ۔۔
کتھے مہر علی کتھے تیری ثناء ۔۔۔ گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں ۔
نور بے اختیار پکار اٹھی آپ تورحمت للعالمین ہیں  زمانے کے ستم کو  اپنےکرم میں ڈھانپ لیتے ہیں،  ان سے ہی فریاد کر  کہ زخم سے چور وجود ہے سرور انبیاء، شاہا! ۔۔ کرم کی اک نگاہ ہو مجھ پر
آپ کی بارگاہ میں  اپنے دکھ بیاں کرتے دل ہلکا ہو جاتا! جانے کیوں لگتا ہے کہ دل ہلکا ہوگیا! نہ گلہ کہ کتنوں پہ نظر نہ  کتنوں کو عطا ...
آپ کی جانب سے تقسیم برابر ہوتی ہے مجھے مگر تمنا زیادہ کی ہے ...
مجھےاپنے قریب کرلیجیے شاہا ... شاہا دل بڑا نم ہے ... شاہا آنکھ میں غم لہو کی مانند چھلک رہا ہے ...
شاہا رہنمائی کیجیے! اے میرے شاہا! اے میرے بابا .... اے میرے بابا ... اک بیٹی آپ کی محبت میں آنسو بہاتی ہے آپ ہی توہو جو مجھ دکھیاری کی سنتے ہو ...
بابا! مجھے قدموں میں کرلیں میں کیوں آپ کے ہوتے مضطرب رہوں .. آپ کے ہوتے مجھے رنج کیسا ؟!

Wednesday, June 14, 2017

کلامِ الہی سے خشیت کا طاری ہونا

0 comments
( إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آَيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ) [الأنفال: 2]

مومنین میں ایسے لوگ ہیں جن کے دل اللہ کے کلام کی ہئیت پاتے ڈر جاتے ہیں ۔ وہ نشانیاں ان کے قلوب میں رقت طاری کردیتی ہیں ۔ وہ مومنین جب مشکلات میں گھرے ہوتے ہیں ، ان کے دلوں کو توانائی اس قران پاک سے ملتی ہے اور ان کے یقین میں اضافہ کرنے والی کتاب حقیقتاً قران پاک ،کلامِ الہی ہے ۔ اللہ کریم فرماتے ہیں 
( لَوْ أَنْزَلْنَا هَذَا الْقُرْآَنَ عَلَى جَبَلٍ لَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُتَصَدِّعًا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ) [الحشر: 21]

اس کلام کی اثر انگیزی ایسی ہے کہ اگر یہ پہاڑ پر نازل ہوتا تو وہ بھی خشیت سے  ٹکرے ٹکرے ہوجاتا۔ اے کاش کہ ہمارے دل اسکی حقیقت جان بھی لیں ۔ اللہ تعالیٰ کا پیار و دلار دلوں میں کیسے کیسے اثر کرتا ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول پاک ﷺ  نے فرمایا : مجھے قران پاک کی تلاوت سناؤ  ، جواباً : اے اللہ کے رسول ہاک ﷺ ،میں آپ کو قران پڑھ کے سناؤ جبکہ قران کا نزول آپ پر ہی ہوا ہے ؟ فرمایا: ہاں 
آپ نے سورہ النساء کی تلاوت فرمائی اور جب اس آیتِ کریمہ تک پہنچے 

( فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا ) [النساء: 41]

آپ کو اس آیتِ مبارکہ پر اس آواز نے روک دیا : بس کرو ، استعجاباً پیچھے مڑ کے دیکھا جنابِ رسول کریم ﷺ اطہر کی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے ۔

جناب رسول پاک ﷺ عملی مثال ہیں ۔ ہم لوگ  سنت پر چلنے  کے لیے بے تاب ہیں اپنی خرد و عقل کے استعمال سے  مگر اسکو عمل بجالانے میں  مفلوج ہے ہمارے عمل و بدن ۔ یہ سیاہ کاری کیسے چھپے گی ؟ اعمال کی سیاہی دل کی سیاہی بن گئی ہے ، جیسے رات کالی آگئی ہے ۔ روزِ محشر اللہ کا سامنا کیسے کریں گے ، ان اعمال کے سبب چھپنا بھی چاہیں تو نہ چھپ سکیں ۔۔ ہم تو مسلمان ہیں جن کے دل خشیت خالی مگر وہ اللہ کے بندے جن تک اسلام پہنچا نہیں تھے مگر ان کے دل روشن تھے ۔۔۔ 

لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ ٭ 
(اے پیغمبرﷺ!) تم دیکھو گے کہ مومنوں کے ساتھ سب سے زیادہ دشمنی کرنے والے یہودی اور مشرک ہیں اور دوستی کے لحاظ سے مومنوں سے قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اس لیے کہ ان میں عالم بھی ہیں اور مشائخ بھی اور وہ تکبر نہیں کرتے
وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّ‌سُولِ تَرَ‌ىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَ‌فُوا مِنَ الْحَقِّ ۖ يَقُولُونَ رَ‌بَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ٭

اور جب اس (کتاب) کو سنتے ہیں جو (سب سے پہلے) پیغمبر (محمدﷺ) پر نازل ہوئی تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس لیے کہ انہوں نے حق بات پہچان لی اور وہ (خدا کی جناب میں) عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ لے

یہ آیاتِ مبارکہ اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ نے اس وقت  ایک عیسائی کی گواہی کو ہمارے لیے ایک نشانی بنایا ہے ۔ ہجرتِ حبشہ کے بعد نجاشی کے دربار میں قرانی آیات کی تلاوت کی گئی تو وہ ایسے روئے تھے کہ ان کی آنکھیں سے نکلنے والے آنسو ان کی داڑھی کو تر کرگئے ، اس کلام نے ان کے دل پر خشیت طاری کردی اور انہوں نے روتے ہوئے اس کلام کے سچے ہونے اور حضور پاکﷺ کے سچا نبی ہونے کی تصدیق کردی ۔ ایسے لوگ جن کے دل خشیت سے کانپ جاتے ہیں ، درحقیقت وہ عارف ہوتے ہیں یعنی حق کی پہچان کرنے والے ہوتے ہیں ، سبحان اللہ !


اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے ، اسکو پڑھنے کی ، سمجھنے کی اور بار بار پڑھنے کی تاکہ ہمارے دل بھی ایسے ہی خشیت میں ڈوب جائیں اور ہم بھی ان کو سن کے ، پڑھ کے رو دیں ۔ کاش ! ہم ایسا کرپائیں ۔ دل سیاہ ہوچکے ہیں ، عمل میں ریاکاری ہے ، ہم عمل میں پیچھے اور قول میں آگے ہیں ۔ اے ہمارے رب کریم ، ہمارے حال پر رحم فرما ۔ آمین ! 

Saturday, June 10, 2017

پسِ عکس

0 comments
زندگی پر تعجب کرنا سِرا سر بیوقوفی ہے ۔ہم زندگی کو سَنوارتے جاتے ہیں ،یہ بگڑتی جاتی ہے اور جب ہم تخریبی کاروائیاں کرتے ہیں تو ہمیں تعمیر میں الجھا دیا جاتا ہے ۔''ہائے زندگی ، وائے ندمت !'' تم ،میں ، وہ'' کچھ بھی نہیں ہیں بس ''کچھ نہ ہونا'' زندگی ہے ۔ایسی منفیت بھری سوچ سے امید کیا ابھرے گی ؟ ۔زندگی پر تعجب کرنے کا خُمیازہ بھگتنا ہوتا ہے خاموشی کی چادر اوڑھ کے آئنے کے سامنے کھڑے ہوجائیے ،آئنہ کبھی مسکرائے یا کہ کبھی خفا ہوجائے ،کبھی روئے تو کبھی خوف کی ہولناکی سے ہمیں ڈرائے ،کبھی سراپا خودپسندی تو کبھی جائے ملامت ، کبھی آزادی کے خواب دکھلاتے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دینے والا۔اسکے اتنے سارے رنگ ایک ہی عکس تشکیل دے دیں تو حدیثِ ذات سنانا آسان ہوجاتی ہے اور تعجب کسی کاٹ کباڑ کی دکان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ ساری بغاوت اسی آئنے کی تشکیل شُدہ ہے اسلیے ایسے آئنے کو توڑ دینا ہی کافی ہے

خودپسندی زندگی گزارنے کے لیے سب سے اچھی شے ہوتی ہے ۔سارے رشتوں کا نعم البدل خودپسندی ہے ۔دنیا والے اس انعمول طرزِ فکر کی قدر کہاں کرتے ہیں اورنابغے انسانوں کی بھیڑ میں گُم ہوجاتے ہیں ۔عمومًا جتنے بھی ادباء گزرے ہیں ان سب میں ایک قدر تو مشترک ٹھہری کہ سارے خودپسند تھے ۔ ادیب سے لوگوں کی بڑی توقعات ہوتی ہیں ۔جو انسان معاشرے کے سچ کو لکھتا ہے وہ ان کے حالات کو بَدل دے گا۔صدہائے افسوس کہ امیدوں کا ناتواں بدن قدم بوس ہوجاتا ہے جوں جُوں احساس دریچوں کو روشن کرتا ہے۔جو اپنے حال کو بدل نہ پائے وہ کیا دوسروں کے امیدِ کوہِ گراں کو اٹھائے گا ۔مارلو شاید دُکھ کے ناتواں بوجھ کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا اسلیے دو گھڑی خوش رہنے کے بعد غمِ حیات کے سنگ کو دل کی جگہ رکھنے کا قائل تھا ۔ اپنے بنائے ہوئے دائروں میں رہنے والا مارلو دُنیا والوں کو نہیں بھایا تھا، کیا خُدا کو بھایا ہوگا؟خُدا کو دیکھیے اوپر بیٹھا اضداد کے قانون کو ہر شے ، شخص پر لاگو کردینے والا ۔خودپسندی کو اُس نے اپنے لیے پسند فرمایا مگر اسکو اچھا نہیں لگتا بندے خود پسند ہوجائیں ۔خودپسندی مارلو کے لیے نعمت ہوئی یا نہیں مگر اس طلسمِ حیرت کدہ میں قدم رکھنے والے، اِس راہی کے علم وتجربے سے ضرور مستفید ہوں گے ۔ انجامِ بعد ازموت کس نے دیکھا ہے ؟ کس کو پروا ہوگی کہ جو ہونا ہے وہ انسان کی زورِ بازو سے ہونا ہے ! بعد از موت کیسے بازو کاٹ دیے جاتے ہیں اسکے لیے خودپسند ہونے کی مشقت کرنا پڑتی ہے ! بے نیازی شانِ خُدا وندی ہے بندہ بشر ان فنی خوبیوں سے ماوراء ہوتا ہے ۔تخلیقار کی تخلیق کا روح سے بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے ۔لفظ جو قرطاس پر چمکتے ہیں وہ روح سے نکلے ہوتے ہیں ۔مارلو کا ٹریجیکل ہسٹری کا ''کورَسّ'' روح سے نکلا ، لیر لیر تن کی کہانی تھا ! مارلو کا خُدا معاف کرنے کی صفات رکھتا تھا مگر مارلو نے امیدوں کے دائرے کو وسیع نہ کیا ۔ ہم سب اصلی زندگی میں امیدوں سے ایسے دور بھاگتے ہیں جیسے جنات نے کے سائے ہمارے پیچھے رواں دواں ہیں ہم ان سے پیچھا چھڑاتے کسی اندھی کھائی میں گِر جاتے ہیں


حوصلہ بڑی انمول شے ہے ۔بارہا ہمیں سوچنے پر مجبور کیے دیتی ہے کہ اس عظیم الشان کا قوت کا مظہر کیا ہوگا ۔وہ کونسی قوت ہے جو اتنا پُختہ کیے دیتی ہے کہ جابر حُکمران مارے خوف کے بُلند عالی پہاڑ جیسے حوصلے کو سلاخوں میں قید کردے ۔فیض کا سلاخوں کے پسِ پُشت ہونا ان کاگوشت پوست کے وجود کے باعث نہیں بلکہ ان کی اَزلی بےباکی اس کا باعث تھی ۔یاس کے مرجھائے پھولوں سے امیدوں کے تیشے کو وجود دینے والے فیض میں یہ حوصلہ کہاں سے آیا ہوگا؟ جالب کے پاس بھی ایسا حوصلہ دیکھنے کو نہیں ملا شاید جالب حقیقت میں رہتے تھے ، ان کی شخصیت کی انفرادیت تمنا کے جال میں الجھنے کے بجائے حال سے نبرآزما رہتی تھی ۔فیض تو چلو امید کو دامن میں جلو رکھتے تھے مگر جالب نے تو اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھا ۔شاید اسلیے جالب کو ہماری کم فہم نظر نے پسندیدگی کے معیار میں اے ون ریٹ کردیا۔ جالب کی ایک بری عادت تھی کہ دوسروں کو الزام دیا کرتے تھے ۔ ہر وقت حکومتِ وقت کو اپنی نگارشات میں تنقید کا نشانہ بنائے رکھنے والے یعنی کہ خود بھی جلے اور دوسرے کو بھی جلائے۔بعد ازاں ہمیں اس سے بہتر انشاء جی لگے ۔انشاء جی کی ایک خوبی تھی وہ خود فریبی میں مبتلا رہے ۔ جب جب خود فریبی کا آئنہ حقیقت کے آئنے سے پاش پاش ہوتا تب انشاء جی خودکشی کرنے پر مجبور ہوجاتے ۔ فیض و جالب کے مقابلے میں ان کے کلام میں قدرے حلاوت ہے مگر یاس ان کے لفظوں پر اس طرح جمی ہوئی جیسے شہد پر مکھیاں ۔ان مکھیوں سے رستا شیرا چوسنے والے لوگ انشاء جی کو برا بھی کہیں مگر واہ واہ تو ضرور کریں گے ۔

اردو ادب میں خواتین کی کمیابی نقصان کے طور پر مانی جائے یا اسکو خوش آئند قرار دیا جائے یہ تو بعد کے فیصلے ہیں مگر خواتین کے تخیلاتی معجزوں نے اردو ادباء کو انگشت بہ دندان کردیا ۔قراۃ العین نے وسیع کینوس پر پھیلے افکار کو استعمال کرتے ہوئے جو ناول کی بُنت کی ہے اسکی تعریف صدیوں کی محتاج ہے ۔ ایسا ناول شاید کسی بھی زبان کی تعریف سے بالا تر ہے ، ایشیائی ثقافت کے سارے منجدھارے اسی ناول سے پھوٹتے دکھتے ہیں ۔ قراۃ العین کو کس ضرورت نے زمانوں سے بالا سفر پر مجبور کیا ہوگا ۔۔۔۔ماضی حال کے چکروں نے ڈھائی ہزار سالوں کی مسافت طے کردی ۔ یہ کسی کے گمان میں کہاں تھا کہ ایک ناول کی ضخامت اس بوجھ کو اُٹھا بھی سکی گی مگر کامیابی سے اٹھایا بھی ! سوچ کا اس قدر انقلابی ہونا کارِ بیکار تو نہیں مگر اس کا ہونا نعمت تو ضرور ہے ۔ قراۃ العین کے تجربات تیس سال کی عمر میں اتنے پختہ ہوگئے تھے ؟ شاید ہجرت ، شناخت کے کرائسز ایسے ہی ہوتے ہیں جو کبھی قراۃ تو کبھی سلہری تو کبھی اڑنڈتی تو کبھی ماریسن تو کبھی سدوا کو تخلیق کے عمل سے گُزرانے کے بعد شاہکار تخلیق کروائے دیتے ہیں ۔ سارہ سُلہری کی سوانح پر مشتمل ناول جس کا نام جانے کیوں ''میٹلیس ڈیز'' رکھا گیا تھا ۔گوشت کا فقدان یا عدم دستیابی تھی یا زندگی ہجرت کی مثال ۔۔۔ جہاں قراۃ نے دکھ کو تاریخ کے اوراق میں لپیٹ دیا تو سلہری نے اسے استعاروں کی ،خوابوں کی نظر کردیا


دُکھ ، درد اور بہتے اشک۔۔۔سیلِ رواں ۔یہ کب بہتا ہے ؟شاید جب کوئی شے وجود میں آرہی ہوتی ہے ، کوئی آئنہ آئنے سے ٹکرا رہا ہوتا ہے ، کچھ پاش پاش ہوکے بکھر رہا ہوتا ہے ! شیشے کا جسم بکھرجائے تو اچھا ہے اور کچھ وقت کی چادر میں سمٹ کے مربوط ہوجائے تو اچھا ہے ۔یہ دُکھ ،یہ حوالے ،یہ ادب کے مجاور اپنی اپنی خانقاہیں سجانے والے عدم سے آئے اور عدم ہوگئے !انکا وجود تخلیقات کے لیے تھا اسلیے تخلیق کو انہوں نے دوامت بخشی اور تخلیق سے یہ دائمی شہرت کے حامل ہوگئے ۔یہ لفظ جو لکھے جاتے ہیں یہ سرمایہ ہوتے ہیں ،یہی آئنہ ہوتے ہیں ۔آئنہ بنتا ہے ،بگڑتا ہے ،کبھی خفا ہوتا تو کبھی یاسیت سے بھرپور ۔۔۔۔ آئنے پر ایک رنگ جمتا نہیں ہے کبھی دکھ کی دیوی نظر آتی ہے تو کبھی حوصلہ مند ٹھاکر جھروکوں سے جھانکتا ہے تو کبھی دنیا تیاگ دینے والا جوگی اس میں کھڑا مسکراتا ہے ۔کس رنگ کو بندہ پکڑے تو کس کو چھوڑے ! ان سب میں سرمایہِ ماحاصل جذبات سے نکلنے والا آتش فشان ہوتا ہے ، بس !

جانے کتنے آئے ، دکھ تحریر کیا ، آنسوؤں کو صاف کیا ،چلے گئے ۔کتنوں نے آئنے صاف کیے ، اپنا عکس دیکھا اور عکس کے پسِ عکس میں داخلی دنیا کے ثمرات سے لطف اندوز ہوئے ! یہ عکس ، جو وہ تخیل کی دستیابی ہے ، یہی انقلابی سوچ بھی ہے ! ایسے ادباء جو تعقلی سازش کا شکار رہے ان کا نام تاریخ سنہری حروف میں مزین نہ کرسکی ہے جس طرح تخیلاتی شاہکار لکھنے والے اَمر ہوگئے ہیں ۔ شام ڈھلنے کے بعد سویرا کون دیکھتا ہے ۔ زندگی بس ایک صبح ایک رات کا چکر ہے ! جانے کیوں عینِ الصبح سے ازلی بڑھاپے کا سنڈروم کب جان لے گا یا کب ، کون جانے ایسے وائرس کا علاج دریافت کرے گا !

Monday, June 5, 2017

شہِ کونین کے عاشق حضوری میں رہے اکثر

0 comments
شہِ کونین کے عاشق حضوری میں رہے اکثر
نگاہِ یار کے طالب تجلی میں رہے اکثر


تصور محفلِِ نوری اڑا کے لے گئے ذاکر 
پرندے بھی قفس سے ایسی دوری میں رہے اکثر

حریمِِ ناز کے جوشہر منڈلاتے ہیں متوالے
وہ شیدا قبل اس سے خوابِ نوری میں رہے اکثر

مسافر گرمیِ خورشید کی شدت سے گھبرائے
مصائب میں انہی کے دل صُبوری میں رہے اکثر

طلب سے ماوراء ہوتے ہیں طوفِ شمع کے جو گرد
وہ پروانے سدا نوری جلالی میں رہے اکثر

یہ اُنظر نا کے طالب اب کھڑے کب سے مؤدب ہیں
نفوسی ایسے کب سے ناصبوری میں رہے اکثر

سیہ بدلی میں معجز نور پوشیدہ تھا، طہٰ تو تب
خشیت مارے گھبرا کر تھے کملی میں رہے اکثر
نورؔ

Sunday, June 4, 2017

جلوہِ رخِ جانم مئے حیرت کدم

0 comments

جلوہِ رخِ جانم مئے حیرت کدم

زمینوں نے جب گردش کی اور جب یہ تھم گئیں تو نئے عالم وجود میں آگئے ۔۔۔ یہ گردش کیا تھی ، پاش پاش ہونا لکھا  ہوا تھا ۔ جب زمین پاش پاش ہوئی تو کچھ نہ بچا ، بس ایک وہ بچا جس نے دی'' ھو ھو'' کی صدا اور پلٹ دی یکدم کایا اور صدا دی اللہ ھو اللہ ھو اللہ 

 جسے ہم چاہتے ہیں  دیتے ہیں اور جسے ہم چاہیں اسے زمانہ چاہتا ہے ، جسکا ہم ذکر کریں ۔۔ زمانہ اسکا ذکر کرتا ہے ،محبت عطا ہے ، یہ جذب ،محبت کسی دکان پر نہیں ملتا نہ ہی کسی مہمان سے ، نہ ہوتا یہ نسیان سے ، اس میں جاتا ہے ہوش ، بندہ ہوتا ہے مدہوش ، یاد بس ہماری رہتی ہے ، یاد بھی کیا ہے ، ہم جس کے دل میں بستے ہیں وہ بھلا کیا بھول پائے ،جسکے آئنے میں ہم خود کو خود دیکھتے ہیں ،    وہ محبت کی آیات سے بنا ہے۔۔۔۔۔کون جانے کس کو ملتی ہیں کتنی رفعتیں ۔۔ یہ اوج یہ بہار یہ قربیتیں ، یہ فیضان ، یہ سب ہماری بخشش ، یہ جو صورت رحمان ہے یہ جو صورت فارس ہے یہ جو صورت اشجار ہے ، یہ گلاب ہے وہ گلاب ہے ، یہ چمن ، جو ہم دے وہ کیا رہتا ہے کچھ نہیں ہوتا بس جہاں ہم ہوتے ہیں ، وہ ہمارا قبیلہ ہوتا ہے

نور محمدﷺ کو جب ہم نے خلق کیا ، ساری پسندیدہ ارواح اس نور کے قلب میں ڈال دیں ، 

اے محمد ﷺ تو ہمارا آئنہ ہے
اے محمد ﷺ تیرا قلب نوری خزینہ ہے
اے محمد ﷺ کن کا سلسلہ تجھ سے ہے
اے محمد ﷺ حمد کا سلسلہ تجھ سے ہے 
اے محمد ﷺ میرا ذکر تجھ سے ہے 
اے محمد ﷺ تیرا ذکر مجھ سے ہے 

ساری نوری آئنے محمدﷺ کی ذات سے ہیں ،وہ ان سے بھی ، ذاتِ حق سے بھی ضو پائیں گے جن کا ربط آپﷺ سے ہوگا ان کا حق ذات سے بھی ہوگا ، جس کا ربط حق سے ہوگا ،یقیناً نبی کریم ﷺ اسکی رحمت  کے داعی ہیں ۔۔ جو نبی کریم ﷺ سے محبت کرتا ہے وہ اللہ تک رسا ضرور ہوگا ۔۔۔ اس پر لازم ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ اور اللہ دونوں کو چاہے ۔۔  وہ محبوب بنے ، محب بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نور کی ساری صفات آپ کو سونپی گئیں ہیں۔۔۔ رحمانیت کا در رحیمی ہے وہ بھی آپؐ سے ہے ، بانٹ دینا آپؐ کا کام ہے اور ان  کو دینا اللہ کام ہے ، 

اے محمد ﷺ یہ جو عاشق سدرۃالمنتہی تک پہنچ کے لڑکھڑا جاتے ہیں ان کو کنارے لگانا آپ کے ذمے ہے ! ہم جسے چاہیں جیسے چاہیں دیں ، ہم نے اپنے محبوب بندوں کو  بہت نوازا ہے ، ان کو اپنا آئنہ بنایا ہے ، ان  میں اپنا رنگ سجایا ہے ، وہ رنگ جو 'الف' اور 'م' کے سنگ سے جڑا ہے جس کی شبیہ سے ان کو  نوازا گیا ، جسکو اوڑھنے کا سلیقہ بھی  دیا جاتا ہے اور وہ جو حیرت ِ جلوہ جانم کے بعد عقل کھو جاتی ہے اس سے  محفوظ رکھا ، اسلیے تو  وہ میرے محبوب کی پناہ میں ہے ۔ ان کی آنکھ  کا آنسو ہماری محبت کا نشانی ہے ، یہ جو دریائے معجزن حیرت و محبت کا سنگم  اندر  رواں ہے اس کا سرا بھی ہم سے ملتا ہے ہم جو چاہیں  نشان مٹادیں۔ ہم چاہیں  عروج عطا کردیں ، آزمائش انہی دونوں صورتوں میں لکھی ہے ، جو پار کرگئے نیا ، وہ جیت گئے ، جلوے ان کے ہوگئے 

سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے غارِ حرا میں مقیم

0 comments

نمودِ صبح خواب ہے ، اک نفس سجدہ ریزی سے سر اُٹھائے ہے ، فلک پر چاند دکھے ، دل پکارے
حسینو جمیل آگئے ہیں ۔۔دِل کے حبیب آگئے ہیں۔۔زمینو کے خورشید آگئے ہیں ۔۔یا طہٰ ،یا طہٰ کہے گے ہم ۔فلک کے خورشید ، کملی والے آگئے ، باد کے جھونکے ، ماہتاب کے روشن ذرے ، گلوں کی مہک کے خزینے سلام کہتے ہیں ۔۔۔پیالہِ نور ۔۔ فیضِ ابدی کا مظہر ملا روشنی سے ، روشنی ہوگئی ۔
یہ نعمت ، دولت ، شفقت ، راحت کے گُل دستے جھول رہے ہیں روشنی عکس میں ۔۔یہ اعجازِ مدحت ،خوشبو مظہرِ وجود ، دل مجلی کہ عکسِ نور ہے
ان کی خوشبو نے مست کردیا ہے
نوری ہالے سے جذب مل گیا ہے
ان کی محفل میں حُضوری کی خاطر
 نورؔ کا دل مچلتا جارہا ہے
یہ رفعت ، یہ تحفہ ، یہ دولت ۔۔۔ یہ شفقت ۔۔۔ملاحت کے نشان ، دل کہ غنچہِ نور ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ان کی مہک کے جھونکے ٹکراتے ہیں ۔وجودِ نوری ہالہِ نور 
وتعز من تشاء وتزل من تشاء

یہ مقامِ عزت کہ مقامِ حیرت۔۔جلوہ نعمت ، جلوہ رحمت ۔۔خورشید رات کی ہتھیلی پر ۔۔چاند اسکی جانب ہے لپکا۔۔یہ کون دل میں مقیم ہے۔۔ہر جھروکے پہ صدا دیتا ہے۔۔وہ کملی ۔۔۔ کیا شانِ طہٰ۔۔ مزمل ۔مدثر ۔۔کیا شانِ طہٰ۔۔صلی علی ۔۔ صلی علی ۔۔۔ نازِ نبوت ۔۔حبیبِ کبریاء ، بہارِ رحمت   ۔۔۔امام الانبیاء ۔۔۔ صلی علی ۔۔صلی علی ۔۔۔حُسین کے نانا ۔۔مدینے کے تاجداروں ، دو عالمیں کے ابرار ۔۔۔۔۔ مرحبا یا سیدی ۔۔مرحبا ! مرحبا ۔۔۔۔۔حیرت  سراپا مودب ۔۔ مرحبا !والیِ کونین آئے ۔۔صلی علی حبیبِ ناز ۔۔۔۔صلی علی نبیِ ناز ۔۔۔۔۔۔۔ دل طالبِ حسن ۔۔ کریم النفس ، حلیم الطبع  ۔نفیس المزاج ۔۔۔۔۔۔۔۔عشاق کے طبیب و حکیم ۔۔۔۔ مریضِ عشق کا مرض بڑھا بہت ۔۔ دوا کہ دوا نہیں مگر اے عالی پناہ  ۔۔ آپ ۔۔۔ آپ کی محفل میں حضوری ۔۔۔ کرم ہوا کہ قابلِ کرم بھی نہیں ، بھرم رکھا کہ قابلِ بھرم بھی نہیں۔۔

''میم'' کی ہستی کے رنگ ، جس میں چھپی  رحیمی ، کریمی  ۔۔درود و سلام ۔۔۔ یا نبی ،سلام علیک ۔۔یا نبی سلام علیک ۔۔ یا نبی آپ پر بیحد درود ۔۔۔۔ 
ثانی الثنین ۔۔۔۔۔۔۔ حبیب  کہوں صدیق کہوں ۔ یارِ غار ، وہ عالی مقام ۔۔  روشن ستارے ۔۔ وہ تشریف فرما ہیں
صاحب الرائے ،۔۔۔ فاروق اعظم -----  ملے کیسے کیسے مقامات ،  وہ شہید    بھی شاہد بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
جمالِ نبی ، جلال نبی
باب العلم --- حیدر  ۔۔۔ کیسے کیسے پائے انعامات  ۔۔   علم کی سبیل  ۔۔علم کی دلیل ۔۔ وہ شانِ بے نیازی ۔۔ 
جمالِ نبی ، جلال نبی 
غارِ حرا کے ملے نظارے  ۔۔ نعت  کہنے کے استعارے ۔۔۔ مقامِ حیرت نعت سُنی   بھی کہی ۔۔۔ مقامِ محبت کہ مئے دید سے مدہوش ۔۔ سرور میں ہو نہ جائے کو ئی سہو ۔۔۔ دل بس ہے محو ، محو محو ۔۔۔ ادب سے بات پاسِ ادب پہنچے ۔

سلام طیبہ کے روشن میناروں پر ۔۔۔سلام مدینے  میں جھومتے صبا کے جھونکوں کو۔۔۔سلام خاکِ نقشِ پائے محمدؐ کو۔۔۔خوش نصیبی در پر آئی ہے ۔۔۔فغانِ نمیدہ  دل کی اثر کرآئی ہے۔۔فریاد حضورﷺ سنتے  ہیں ۔۔ ان کی حضور جبین رکھ دی ۔۔۔۔یانبی سلام علیک ۔۔۔۔یا رسول سلام علیک ۔۔دل کہ رحمت کا خزینہ۔۔دل  کہ نوری نگینہ ۔۔ہجر کو ملا پھر  سفینہ ۔۔خوشبو سے معطر ۔۔جھکے سر رہے ۔۔ادب کا یہ قرینہ ۔۔حق کے والی ۔۔در پہ کھڑی سوالی۔۔سلام اے ہادی ۔۔سلام اے طہٰ۔معطر ۔معجل ۔مطہر ۔۔دل کیا ، دل پہ ہو نگاہ تو کیوں نہ  مصفی ۔۔اے رحیمی ، اے کریمی ! اے حبیبی ۔۔اے والی ، اے شافعی ۔۔رحمانی آپ سے ملتی ہے۔۔نوری کملی میں ڈھانپا ہے ۔۔مدثر ۔مزمل ۔۔طہٰ۔۔یسین ۔۔۔۔۔نہ اٹھی نگاہ مگر بنی دعا کہ مقامِ ادب کہ مقامِ حیا 

یہ دل کی باتیں ہیں ! دور ہیں ، نگاہیں کہیں اور ہیں مگر آپ کی مسلسل نگاہ میں ہوں ! دل دعا میں ہے کہ استغنا میں ہے ! دل فنا میں ہے یا دل ادعا میں ہے !
دل -------------------یا حیی یا قیوم ! اے دل فنا ہوجا !
دل --------------- لا الہ الا اللہ کی چادر اوڑھ لے ،
دل ------------------ھو کی صدا میں مست ہوجا ! 
دل ------------------کملی والے کی شان میں گم ہو جا !
دل -------------------- حبیبِ کبریا پہ درود بھیج ! 

ھو ! احمد ! ھو محمد ! ھو ، محمود !۔۔۔ھو، مزمل ! ھو، مدثر ! ھو، طہ ۔۔۔محمودیت پر فائز  ہیں ، ذکر آپ کا بُلند جانبِ خدا ہے ۔۔۔ 
ورفعنالک ذکرک ۔۔ 
آوازہِ نورِ محمد بُلند کر کہ بلندی اسی آوازے سے ملتی ہے ، جو نگاہِ یار میں آجائے وہ حسین و جمیل ہے ، وہ جو جمال کی رفعت ، وہی اوجِ کمال ہے ، وہ حسن بے مثال ۔۔
شرم و حیا نے زبان پر تالے لگا دیے ! یہ حسن ! کیسا حسن ! یہ  نبی کا حسن مل رہا ہے ! یہ عالی مقام  یہاں گنبد خضرا کو سجا رہے ہیں ۔۔ وہ عالی ، حسین ، دل کو تھامے ہوئے ہیں ! وہ عالی ، میرے یحیی ! میرے عیسی ! میرے موسی !اے دل کو پھیرنے والی دعا دینے والے ، دل پھیر دیا ! اے دلوں میں مقیم استغنا کی چادر دینے والے ، دل غنی کردیا ! اے دل میں مقید خامشی کو ھو کی زبان دینے والے ،دل ولی کردیا ! حق ! محمد ! حق ! محمد ! حق ! محمد ! حق محمد ! حق محمد !
 اے غارِ حرا کا نور ! اے عالی ! اے ذی وقار ! آپ پر سلام

نمودِ صبح خواب ہے ، اک نفس سجدہ ریزی سے سر اُٹھائے ہے ، فلک پر چاند دکھے ، دل پکارے
حسینو جمیل آگئے ہیں ۔۔دِل کے حبیب آگئے ہیں۔۔زمینو کے خورشید آگئے ہیں ۔۔یا طہٰ ،یا طہٰ کہے گے ہم ۔فلک کے خورشید ، کملی والے آگئے ، باد کے جھونکے ، ماہتاب کے روشن ذرے ، گلوں کی مہک کے خزینے سلام کہتے ہیں ۔۔۔پیالہِ نور ۔۔ فیضِ ابدی کا مظہر ملا روشنی سے ، روشنی ہوگئی ۔
یہ نعمت ، دولت ، شفقت ، راحت کے گُل دستے جھول رہے ہیں روشنی عکس میں ۔۔یہ اعجازِ مدحت ،خوشبو مظہرِ وجود ، دل مجلی کہ عکسِ نور ہے
ان کی خوشبو نے مست کردیا ہے
نوری ہالے سے جذب مل گیا ہے
ان کی محفل میں حُضوری کی خاطر
 نورؔ کا دل مچلتا جارہا ہے
یہ رفعت ، یہ تحفہ ، یہ دولت ۔۔۔ یہ شفقت ۔۔۔ملاحت کے نشان ، دل کہ غنچہِ نور ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ان کی مہک کے جھونکے ٹکراتے ہیں ۔وجودِ نوری ہالہِ نور 
وتعز من تشاء وتزل من تشاء

یہ مقامِ عزت کہ مقامِ حیرت۔۔جلوہ نعمت ، جلوہ رحمت ۔۔خورشید رات کی ہتھیلی پر ۔۔چاند اسکی جانب ہے لپکا۔۔یہ کون دل میں مقیم ہے۔۔ہر جھروکے پہ صدا دیتا ہے۔۔وہ کملی ۔۔۔ کیا شانِ طہٰ۔۔ مزمل ۔مدثر ۔۔کیا شانِ طہٰ۔۔صلی علی ۔۔ صلی علی ۔۔۔ نازِ نبوت ۔۔حبیبِ کبریاء ، بہارِ رحمت   ۔۔۔امام الانبیاء ۔۔۔ صلی علی ۔۔صلی علی ۔۔۔حُسین کے نانا ۔۔مدینے کے تاجداروں ، دو عالمیں کے ابرار ۔۔۔۔۔ مرحبا یا سیدی ۔۔مرحبا ! مرحبا ۔۔۔۔۔حیرت  سراپا مودب ۔۔ مرحبا !والیِ کونین آئے ۔۔صلی علی حبیبِ ناز ۔۔۔۔صلی علی نبیِ ناز ۔۔۔۔۔۔۔ دل طالبِ حسن ۔۔ کریم النفس ، حلیم الطبع  ۔نفیس المزاج ۔۔۔۔۔۔۔۔عشاق کے طبیب و حکیم ۔۔۔۔ مریضِ عشق کا مرض بڑھا بہت ۔۔ دوا کہ دوا نہیں مگر اے عالی پناہ  ۔۔ آپ ۔۔۔ آپ کی محفل میں حضوری ۔۔۔ کرم ہوا کہ قابلِ کرم بھی نہیں ، بھرم رکھا کہ قابلِ بھرم بھی نہیں۔۔

''میم'' کی ہستی کے رنگ ، جس میں چھپی  رحیمی ، کریمی  ۔۔درود و سلام ۔۔۔ یا نبی ،سلام علیک ۔۔یا نبی سلام علیک ۔۔ یا نبی آپ پر بیحد درود ۔۔۔۔ 
ثانی الثنین ۔۔۔۔۔۔۔ حبیب  کہوں صدیق کہوں ۔ یارِ غار ، وہ عالی مقام ۔۔  روشن ستارے ۔۔ وہ تشریف فرما ہیں
صاحب الرائے ،۔۔۔ فاروق اعظم -----  ملے کیسے کیسے مقامات ،  وہ شہید    بھی شاہد بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
جمالِ نبی ، جلال نبی
باب العلم --- حیدر  ۔۔۔ کیسے کیسے پائے انعامات  ۔۔   علم کی سبیل  ۔۔علم کی دلیل ۔۔ وہ شانِ بے نیازی ۔۔ 
جمالِ نبی ، جلال نبی 
غارِ حرا کے ملے نظارے  ۔۔ نعت  کہنے کے استعارے ۔۔۔ مقامِ حیرت نعت سُنی   بھی کہی ۔۔۔ مقامِ محبت کہ مئے دید سے مدہوش ۔۔ سرور میں ہو نہ جائے کو ئی سہو ۔۔۔ دل بس ہے محو ، محو محو ۔۔۔ ادب سے بات پاسِ ادب پہنچے ۔

سلام طیبہ کے روشن میناروں پر ۔۔۔سلام مدینے  میں جھومتے صبا کے جھونکوں کو۔۔۔سلام خاکِ نقشِ پائے محمدؐ کو۔۔۔خوش نصیبی در پر آئی ہے ۔۔۔فغانِ نمیدہ  دل کی اثر کرآئی ہے۔۔فریاد حضورﷺ سنتے  ہیں ۔۔ ان کی حضور جبین رکھ دی ۔۔۔۔یانبی سلام علیک ۔۔۔۔یا رسول سلام علیک ۔۔دل کہ رحمت کا خزینہ۔۔دل  کہ نوری نگینہ ۔۔ہجر کو ملا پھر  سفینہ ۔۔خوشبو سے معطر ۔۔جھکے سر رہے ۔۔ادب کا یہ قرینہ ۔۔حق کے والی ۔۔در پہ کھڑی سوالی۔۔سلام اے ہادی ۔۔سلام اے طہٰ۔معطر ۔معجل ۔مطہر ۔۔دل کیا ، دل پہ ہو نگاہ تو کیوں نہ  مصفی ۔۔اے رحیمی ، اے کریمی ! اے حبیبی ۔۔اے والی ، اے شافعی ۔۔رحمانی آپ سے ملتی ہے۔۔نوری کملی میں ڈھانپا ہے ۔۔مدثر ۔مزمل ۔۔طہٰ۔۔یسین ۔۔۔۔۔نہ اٹھی نگاہ مگر بنی دعا کہ مقامِ ادب کہ مقامِ حیا 

یہ دل کی باتیں ہیں ! دور ہیں ، نگاہیں کہیں اور ہیں مگر آپ کی مسلسل نگاہ میں ہوں ! دل دعا میں ہے کہ استغنا میں ہے ! دل فنا میں ہے یا دل ادعا میں ہے !
دل -------------------یا حیی یا قیوم ! اے دل فنا ہوجا !
دل --------------- لا الہ الا اللہ کی چادر اوڑھ لے ،
دل ------------------ھو کی صدا میں مست ہوجا ! 
دل ------------------کملی والے کی شان میں گم ہو جا !
دل -------------------- حبیبِ کبریا پہ درود بھیج ! 

ھو ! احمد ! ھو محمد ! ھو ، محمود !۔۔۔ھو، مزمل ! ھو، مدثر ! ھو، طہ ۔۔۔محمودیت پر فائز  ہیں ، ذکر آپ کا بُلند جانبِ خدا ہے ۔۔۔ 
ورفعنالک ذکرک ۔۔ 
آوازہِ نورِ محمد بُلند کر کہ بلندی اسی آوازے سے ملتی ہے ، جو نگاہِ یار میں آجائے وہ حسین و جمیل ہے ، وہ جو جمال کی رفعت ، وہی اوجِ کمال ہے ، وہ حسن بے مثال ۔۔
شرم و حیا نے زبان پر تالے لگا دیے ! یہ حسن ! کیسا حسن ! یہ  نبی کا حسن مل رہا ہے ! یہ عالی مقام  یہاں گنبد خضرا کو سجا رہے ہیں ۔۔ وہ عالی ، حسین ، دل کو تھامے ہوئے ہیں ! وہ عالی ، میرے یحیی ! میرے عیسی ! میرے موسی !اے دل کو پھیرنے والی دعا دینے والے ، دل پھیر دیا ! اے دلوں میں مقیم استغنا کی چادر دینے والے ، دل غنی کردیا ! اے دل میں مقید خامشی کو ھو کی زبان دینے والے ،دل ولی کردیا ! حق ! محمد ! حق ! محمد ! حق ! محمد ! حق محمد ! حق محمد !
 اے غارِ حرا کا نور ! اے عالی ! اے ذی وقار ! آپ پر سلام

Friday, June 2, 2017

یہ میرا امروز ، وہ تیرا زمانہ

0 comments
شمس نے فلک پہ پایا۔۔فلک نے قمر پہ پایا ۔۔قمر سے زمین نے پایا۔۔محمد ﷺ  کی 'م' کا راز۔۔سینے کے چلتا آر پار۔۔صدقے جاوں بار بار۔۔اللہ ! محمد ! اللہ ! محمد !۔۔حق ! محبت خالق کی۔۔حق ! محبت عاشق کی۔۔حق ! محبت محمد کی ۔۔حق ! محبت خلائق سے۔۔جو میرے آقا نے کی


یہ زمین یہ چاند یہ ستارے ، یہ آبشاریں ، یہ دل کیا ہے ! یہ کچھ نہیں ہے ! میں کسی اور دنیا میں مقیم ہوں یہ جو نیلے نیلے دھاگے ہیں ، یہ جو زرد زرد ریشم ہے ، یہ سیاہ سیاہ  کپڑے ہیں ! یہ جو سبز لباس ہے ! یہ جو ریشمی پوشاک ہے ! یہ جو کالا کپڑا ہے یہ ایک حجاب ہے ! جو مجھے دیا گیا ہے ! ، یہ جو سبز پوشاک ہے ، یہ محبوبیت کی نشانی ہے ، یہ میرے تن پہ سجا ہے  !

گوہرِ مراد ، فیضِ نگاہِ کیمیا سے قسمت بدلنے والی ہے ، ان کی نظر نے میری روح کو بدل دیا ہے ، نئی ترتیب سے جینے والی روح کو خوشخبری دی گئی ہے کہ نگاہِ کیمیا  بدل دے گی ہستی ، اٹھیں گے سب اسرار کے پردے ۔۔۔ محبت کے دروازے  کھول دیے گئے ہیں ،فلک سے نوری شعاعیں کسی کسی رسی کی مانند لٹکے دکھائی دیتے ہیں ۔۔ یارحیم کی نوری شعاع-----یا کریم کی نوری شعاع ۔۔۔ یا  واجد کی نوری شعاعیں ۔۔۔۔ یا قہار کا پرنور شعاع ۔۔۔۔۔۔۔۔ یا باسط تو کہیں المھیمن کی پرنور منور شعاعیں ۔۔۔ یہ شعاعیں تیر کی مانند سینے میں پیوست ہوئی جارہی ہیں ۔۔۔ رحمت برس رہی ہے ، کرم ہو رہا ہے


یہ دھاگے ، یہ وعدے ! یہ جو مجھے ملے ہیں نگینے ! یہ لباسِ سرخ ، یہ سیاہ حجاب ، یہ نگاہِ کیمیا کی دلپذیری ، یہ محبوبیت کی پوشاک ۔۔۔ پوشاک فیضِ گنجور ، رحمتِ صبور ہے ۔۔۔ یہ حجابات ذات ۔۔ مصور نے ترتیب دیے ہیں رنگ !۔۔یہ میرے رنگ ! یہ میرے نگینے !یہ سفینے ہیں جو ہیں نگینے ۔۔یہ دیرینہ آرزو کے آبگینے بکھررہے ۔۔یہ جو چمک دمک کے سفید پتھر ہیں۔۔نور کے ہالے سے چمک رہے ہیں ۔یہ جو آئنہ ہے وہ مکمل ہو رہا ہے ، وہ آئنہ ، وہ رنگ ، وہ جمال کے رنگ ! وہ کمال کا نگینہ ، محبوبیت کی پوشاک ،۔۔ یہ جلال کے رنگ ،  ، یہ حجابات اوڑھنے کے سلیقے  ،  ، یہ جلال و جمال ، یہ سرسبز رنگ  ، یہ رحیمی ، یہ کریمی کی نشانی ہے 

 حق ھو ! حق محمد ! حق علی ! حق حسین ! حق حسن ! حق فاطمہ ! حق عائشہ ! حق خدیجہ ! حو ابوبکر ! حق عمر ! حق عثمان ! حق ابو ذر ! حق ! طلحہ !  یہ جلال و جمال کے رنگ ، یہ کمال کے رنگ جو میرے حسین کے پاس ہیں ،  یہ جمال کے رنگ ہیں جو میرے حسن کے پاس ہیں ، یہ جو جمال و کمال کے رنگ ہیں وہ میری فاطمہ کے پاس ہیں ، یہ جلال ، یہ کمال ، یہ جمال ، یہ ملال ، یہ رحیمی ، یہ کریمی ، یہ جبروتی ، یہ ملکوتی ! یہ شہنشاہی ! یہ فقیری ! یہ رنگ میرے علی کے پاس ہیں ! یہ جو جمال ہے ، یہ رحیمی ہے ، یہ کریمی ہے ، یہ جبروتی ہے ، یہ کمال ہے  جو میرے ابوبکر کے پاس ہے ، یہ جلالت ہے ، یہ کمالی ہے ، یہ قہاری ہے ، یہ جباری ہے ، یہ شہنشاہی ہے ، یہ حشمت، یہ شوکت و  شاہی  یہ میرے عمر کے رنگ ہیں ، یہ حلاوت ، یہ متانت ، یہ لطافت ، یہ کرامت ، یہ جمال ، یہ فقیری ، یہ نرم خوئی ، یہ رحیمی ، یہ نوری رنگ ، یہ میرے عثمان کے رنگ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے سیدہ ! میری خدیجہ ! کیا ہے آپ کی خوشبو ! بزرگی ، جلالت ، حشمت ، محبت  کے رنگوں میں رنگی ہیں روح آپ کی مبارک ، میری فاطمہ ! میری فاطمہ ! میری تاجدار ! میرے دل کی مالک ! اے میری فاطمہ ! اے میری فاطمہ میرے دل میں آپ کے الفت رنگ ! آپ کے نام سے دل کے اترے زنگ ! بہنے لگے سب چشمے ، ملنے لگے مجھے نئے رنگ ! دل کی زمین اب کہ نہ ہو کبھی تنگ ! اے فاطمہ ! اے میرے رسول کی بیٹی ! کیا کیا رنگ ہیں آپ کے پاس؟ کیا کیا نہیں ہے آپ کے پاس ! علم کا جھنڈا ! فقر کی بادشاہی ، شہنشاہی میں جمالیت کا وظیفہ! قہاری ، ستاری ، جباری ، مختاری کے رنگ سے نکلنے والی شعاعوں نے دل کو منور کردیا ہے 




زمین نے فلک سے کہا اللہ ھو۔۔چاند نے سورج سے کہا اللہ ھو۔۔طیبہ نے کعبے سے کہا اللہ ھو ۔۔موت نے زندگی سے کہا اللہ ھو۔۔صبح نے رات سے کہا اللہ ھو۔۔رات نے شام سے کہا اللہ ھو۔۔ستارے نے آبشاروں سے کہا اللہ ھو!۔۔کہکشاں نے خالق سے کہا اللہ ھو!۔۔خالق نے سب سے سنا '' اللہ ھو ''۔۔کن-- فیکون کی صدا سب نے سنی!۔۔قالو بلی کا آوازہ رفعتوں سے گرا !۔۔اللہ ھو ! اللہ ھو ! اللہ ھو! اللہ ھو!۔۔حق ھو ! حق ھو ! حق ھو ! ھو ! ھو!۔۔نیا خاکی ، نیا خمیر ! بنا ہے اک نیا وجود۔۔حق  ھو ! حق ھو ! حق ھو ! حق ھو!۔۔وہ عکس صبح کی مانند روشن ہے ، ۔۔وہ عکس جس میں پلی فقیری ہے۔۔وہ عکس عیسی کی مانند شفاف ہے۔۔وہ عکس  محمد ﷺ کا پرتو ہے ۔۔ وہ عکس  ولایت کی امانت ہے۔۔مبارک ان نیک ساعتوں کو مبارک ہو۔۔مبارک ہو یہ قہاری کی علامت ہے ۔مبارک ہو کہ جبروتی کی علامت ہے ۔۔مبارک ہو کہ ملکوتی کی دلالت ہے۔۔مبارک ہو کہ امین کی امانت ہے۔۔مبارک ہو کہ صدیق کی صداقت ہے۔۔مبارک ہو کہ جذبِ حق کی ضمانت ہے

یہ روح کے کیسے اسرار ہیں

0 comments
مقامِ حیرت پر فائز ہوں،۔۔مقامِ شکر پر قائم ہوں ۔۔مقامِ دید کی خاطر ،۔۔۔اسکی کملی میں چھی ہوں۔۔جنابِ عالی تشریف لائے
شہرِ دل میں رونق لگائی ۔۔۔وہ جب بھی ہیں آئے ،۔۔تب لبوں پہ درود آئے۔۔اے عفوِ کمال ہستی ،۔۔اے صبرِ بے مثال پیکر
اے ہادیِ برحق ،۔۔اے شافعی امم !۔۔اے حبیبِ کبریاء !۔۔اے یسین!۔۔۔اے والی کون و مکان ! ۔۔کون آپ سا ہے یہاں
آپ پر لاکھوں درود۔۔آپ پر لاکھوں سلام


یہ روح میں کیسے اسرار ہیں ؟ یہ روح میں کیسے انوار ہیں ؟ یہ اطوار میرے کیسے ہیں ،  مقامِ ادب ہے کہ ادب سے سر نہ اٹھ سکے اور لبوں پہ سوال رکے ہی ر ہیں ! یہ میرے کیسے اسرار ہیں ! وہ ہیں دل میں اور دل منور ہے ! دل مدینہ ہے یا مدینہ دل ہے ! ارے یہ کیسے انوار ہیں ! یہ میرے کیسے سوال ہیں ؟

وہ تیری مہک ،یہ میری خوشبو۔۔۔۔وہ تیری روشنی ، یہ میری ضو۔۔۔وہ تیرا مسکرانا ، میرا چوٹ کھانا۔۔۔شاہا ! بار بار یونہی مجھے تڑپانا
اوجِ ثریا پر نام مزمل ہے ۔۔عرش معلی پر مدثر ہے۔۔زمین پر آپ کا نام رحمت۔۔یہ تو ہے آپ کی کرامت۔۔آقائے دو جہاں ختم الرسل ۔۔امام الانبیاء راحت العاشقین۔۔۔۔تیرے بعد ہیں حیدر کرارؑ۔۔بو بکر ہیں یاروں کے یار۔۔۔عمر جیسا کہاں آتا ہے بار بار۔۔۔تیرے چمن کے ہیں یہ یار۔۔۔وہ حبشی جسکا دل تھا پر ملال۔۔آپ کو بھی آگیا تھا جلال ۔۔رات نے چاندنی کو تب چھوڑا۔۔جب  آذانِ بلال نے دل کو موڑا۔۔کعبے کا کعبہ مسکن عالی مقام کا۔۔راحت دینا کام ہے آپ کا ۔۔اے ہادی ! اے جمالِ خدا۔۔بعدِ خدا تیرا نام دنیا پر چھایا۔۔اس نام کی چمک نے پلٹی کایا۔۔جلوہِ جمال سے ہوگا پھر کیا کی

 یہ کیسے نشان ہیں جو روح میں ہیں ! یہ ہجر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ نیلے نیلے نشان ! یہ رنگے گئے سبز سے ! یہ زمرد کے نگینے ! یہ آبگینے ! یہ دل میں چمک رہے ہیں ! یہ روح کے دیرینہ شاخسانے ! یہ میرے یارانے ! یہ درد کے بھانبھڑ ! یہ درد کے لاوے ! یہ آتش فشان ! یہ میرے جذبات ہیں !

 یہ اخلاص کے پیکر  مل رہے ہیں ! یہ رحیمی مل رہی ہے ! یہ کریمی مل رہی ہے  !یہ حلاوت مل رہی ہے ! کڑواہٹ ختم ہورہی ہے ! یہ میرےکیسے اطوار ہیں ! یہ میرے کیسے اسرار ہیں ! یہ میرے کیسے نشان ہیں ! وہ روح الامین ! میرے دل میں میرے حضور ﷺ کے یہاں مودب ہے ! یہ میرے سرکار ہیں ! یہ میری روح کے اسرار ہیں ! یہ میری نعت کی اجازت کا سوال ہے ! یہ میرے سوال ہیں ! یہ ان کی ثناء کا حق ہے مجھے جو سونپا جانا ہے ! وہ میرے سرکار ہیں ! وہ میرا پیار ! میرا یار ! وہ میرا ہادی ! میرا طہ ! وہ میرا مزمل ! وہ میرا مدثر! وہ رحیمی ! وہ کریمی ! وہ جلالی ! اے کمالی ! اے کمالی ! اے کمالی ! چمکا دیا دل میرا !

خوشبو جس کی مجھ میں بکھر رہی ہے۔وہ میرے ہادی کی تجلی ہے۔شاہا محفل کے آداب نہیں۔دل کو حیا کا احساس نہیں ۔شاہا ! اے امین الامین ۔وہ زمین جو جھوم رہی ہے شاہا بڑی نم ہے ! شاہا آنکھ میں غم ہے ! شاہا دل پہ تاحد نگاہ کیجیے ! شاہا دل کو چمکا دیجیے ! اے میرے طہ ! اے طاہر ! اے طاہر! میرا دل مصفی کییجیے !

 اے حق کے جلال ! اے حق کے جمال ! اے حق کے کمال ! اے رحمانیت میں سب سے آگے ! اے کہ محبوبیت میں سب سے آگے ! اے رفعتوں میں سب سے افضل ! اے نور علی نور کی تمثیل ! اے آئنہ دو جہان ! اے ذی وقار ! اے عالی ! اے میرے یحیی ! اے میرے مسیحا ! اے میرے موسی ! اے حسین کے نانا ! اے فاطمہ کے بابا ! اے میرے عیسی ! اے میرے موسی ! اے میرے یحیی ! اے میرے ہادی ! اے میرے طہ ! اے میرے مزمل ! اے میرے مدثر ! آپ پہ کڑوڑوں درود !

شرفِ حاضری

0 comments
شرفِ حاضری

اے تجلیِ طہٰ ۔۔۔۔۔ یہ بے خبری کا تیر خبر دے گیا ، یہ بیخودی کا جام خودی کا درس دے گیا ، اے شامِ لطافت ، اے رات کی ہتھیلی پہ سجنے والی حنا۔۔۔

اے تجلی مدثر ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ خودی کا جام پلانا بے خبری دے گیا ، بیخودی کی رمز سکھا گیا ، اے ملیح صبح ، تیرے آنگن پہ سرخ چولا سورج نے پہن رکھا ہے ۔۔۔

اے تجلی یسین ۔۔۔۔۔ رات کی حنائی ہاتھوں میں سرسبز گنبد کی مانند روشنی دینے والی چمک ، یہ بے خبری میں بیخودی کا سنگم ۔۔۔

اے تجلی مزمل۔۔۔۔۔ اے طلوعِ آفتاب سے پہلے کی تجلی ، رخِ یار کے جمال نے نظارے سے دور رکھا ، سورج جانے کس اوٹ چھپا ہوا ہے

وہ آنکھ کتنی سوہنی ہے ، جب کب دل میں آتی ہے ، سب دکھنے لگتا ہے ، نظر کے سامنے غائب موجود ہوتا ہے ، چلی میں اس سمت ، جو میرے قافلے نے مجھے دی ہے ، وہ روشنی جس کی دیواریں ﷺ کی  نقاشی دکھاتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ طیبہ کے مینار ے، وہ روشنی جس نے غاروں کے اندر جگہ بنا لی ہے                                         ۔۔۔۔۔ وہ روشنی جو چالیس برس غار کو اُجالتی رہی ۔۔۔۔۔۔وہ روشنی جب ثور کی وادیوں میں تھی ،پہلی دفعہ جالوں نے کم مائیگی پر فخر کیا ۔۔ وہ حبیبِ رسولِ ﷺ ۔۔۔۔ سعادتِ محبت نبھائی ، خوش بختی  اس محبوبِ رسولﷺ کو  سلام پیش کرتی تھی ۔ کیسے کیسے عاشق پائے ، وہ لاڈلے مصعب بن عمیر ۔۔۔تیروں سے جگر چھلنی ، نیزوں سے  تن زخمی ۔۔۔۔۔۔ شہید    ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ طلحہ ۔۔۔۔ بازو بنا کے ڈھال  عشق کے اصولوں کے پاسدار ۔۔۔ وہ قرنی ۔۔۔ درد کو   فاصلوں پہ محسوس کرتے رہے ۔۔۔ وہ  عشق کی کمال ہستی ۔۔۔طائف   کی سرزمین پر لہولہان ، دعا کی شیدائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ روشن مینارے ۔۔۔ یہ عشق کے شیدائی۔۔۔ خوش نصیب جن کو دیدِ مصطفیﷺ کی سعادت ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

تحیر مر مٹے ۔۔۔ عشق  سرِ دار ۔۔۔۔ تمنائے دید لیے ۔۔۔۔ کلمہِ عشق ادا ۔۔۔ فنا چلی  جنون کو چھوڑے ۔۔۔ بقا کی وادی میں سرخی  پھول ، سرخ لباس ، حنا   زمین کو رنگنے کو تیار ۔۔ عشق دار پہ نثار ۔۔ کب  جامِ دید  پلائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔ بیخودی ان کے اندازِ حجابانہ پہ طاری ۔۔۔۔۔۔۔۔ رفتگی  دار پہ طاری ۔۔۔

قبورِ پہ حاضری ۔۔۔طیور دیں گے ۔۔۔۔۔ عشق پرواز۔۔ پرندہ گنبدِ سبز پر ۔۔۔۔ منتظر کب ہوا تحلیل کرے ۔۔۔ قدم  حاضری کو اٹھیں ۔۔۔۔۔۔ طائر  درود  سلام دیے بیٹھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صلو علی الحبیب ۔۔۔۔۔۔ سلام تاجدار کو بے شمار ۔۔



                                 

Thursday, June 1, 2017

تجلیِ طہٰ

0 comments


سپیدی نے صبح کے نور کو رنگین کردیا ، رات سے سیاہی کھینچ لی گئی ، صبا نے سحر میں سبک روی سے سفر شروع کردیا ۔ یہ کس شہنشا ہ کی سواری ہے ، فلک پہ نوریوں نے شور مچارکھا ہے ، قدسیوں نے درود لبو جان پڑھا ہے ، روحی بیٹھے انتطار کے دیپ جلائے ہیں ، فلک سے سواری اترنے کو زمین پر ہے ، خوشبو نے زمین کو گھیر لیا ہے ، صبا نے بھاگ بھاگ کے سب کو کہا ، یہ شہنشاہ عالی کی سواری ہے ، زمین نے گھوم کے دائرے بنائے ، ان دائروں سے دھواں اسمائے محمدی کا ہے ۔۔۔مزمل ، یسین ، مدثر ، طہٰ ۔۔۔۔۔ درختوں کو اپنی سختی پر کم مائیگی ہوئی ، نالہِ شجر سناگیا ، صبا نے یارحیم ، یا کریم منقش کردیا شجر پر۔۔۔

مسندِ شاہی بچھادی گئی ، زمین پر موتیے کی فصل اگادی گئی ، سلام کے گل دستے پیشِ محبوب ۔۔۔ مشعل روشنی کی ۔۔۔دیپ طاقوں میں سجاتی رہی ۔۔۔۔ فانوس منقش محمدﷺ کے نام سے فلک سے اترا ، نوری محمدی کہ قران پاک ہے اس فانوس میں ، گمان کہ دونوں ہی درست ہیں ، یہ زمین جو روشن ہے ، فصلِ گل و لالہ کو علمِ النور بخشا گیا ، حکمت کے بیج بوئے گئے ، اس نور کو جو فانوس میں موجود ہے زمین کے سینے میں اتارا گیا ۔

حسن کہ طہٰ کی تجلی ، حسن کہ یسین کا جمال ، حسن کہ گل و عطر سے ملے خمار ، حسن ۔۔ہزار یوسف نثار، حسن ایسا زلیخا ئیں ہوجائیں بے حال ، حسن ایسا کہ بیان کیا  کریں طہٰ کے یار ، ان کی مہک نے گلوں کو چراغِ لالہ دیے ، ان کی مہک نے بیخودی کے اشجار دیے ، ان کی مہک نے بے خبری میں اظہار دیے ۔۔۔۔۔۔ مہک نے راستہ روکا ، اے طہٰ راستے میں گھر ہے ، دیپ جلائے بیٹھی ہوں ، چراغاں کیا شادیانے خوشی کے بج رہے ہیں ، طہٰ کی تجلی نے نس نس میں سو آئنے بنا دیے ہیں ، خوشبو نے صبا سے کہا ، صبا نے سندیسہ ِ جنون طہٰ کو دیا ، سب نے مل کے کہا ،

جلوہِ جانِ جاناں مرمٹنے کے اسباب ہیں ۔جلوہِ جانِ جاناں روشنیوں کے بار ہیں ۔جلوہِ جاناں کی تجلی پہ لاکھوں سلام ۔۔جلوہِ جاناں نے تیرگی کا پتا کاٹا ۔۔اے روشنیِ طہٰ تجھ پہ لاکھوں سلام ۔۔سلام اے طیبہ کے مکین ۔۔سلام اے راحت العاشقین۔۔سلام اے جد ِ حسینی ۔۔۔۔۔۔۔

شاخِ نہالِ مسرت پہ گلوں کے دستے نمودار ہوئے ، فلک پر نوریو ں نے درود کی صدائیں بُلند کی ، ندی کے کنارے بیٹھی ندی نے روشنی کے اس ستم کو سہا ، نوری فانوس دل میں سجا دھواں دے رہا ہے ، ایسا جیسا اگربتی کی روشنی جیسا ہوتا ہے ،روح کو نئے تار مل گئے ، جنون کو نئے اسرار مل گئے۔۔۔کرم کے بھی کہاں تھی قابل ،مجھے قریب کرلیا۔۔۔اس لطف کی کہاں تھی عادت مجھے حبیب کرلیا ۔۔۔۔۔


فانوسی روشنی عرش سے ہے جو سینے میں ہے ، جلوہ دل میں ہے ، ساری خلائق ہادیِ امم کو سلام پیش کیے دے رہی ہیں ، دل کی مٹی کی نمی طہٰ کی تجلی کی وجہ سے ہے اے میری ہادی ، اے میری طہ ، اے میرے مزمل ، اے میرے مدثر ، اے یسین ، اے طور سینا سے بلند معراج کی رفعتوں کی امین ، اے میرے آقا ، دل کہ کاش نعتِ نبی کا اذن ہو جائے ، کاش مدحِ رسول مآب کی اجازت مل جائے ، وہ میری پکار سن کے فلک کی رفعتوں پر ٹھہرے مسکرائے ، نعت مقبول ہے ، اذن کی ضرورت کیسی۔۔۔



رحیمی ۔۔۔۔۔۔۔طہٰ ۔۔۔۔۔۔جلوہ ۔۔۔۔یسین ۔۔۔۔۔کمال۔۔۔۔مدثر ۔۔۔۔۔۔۔۔جمال ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مزمل ۔۔۔۔۔۔چار تجلیات نے زمین کو روشن کردیا ہے ، یہ رحمت و برکت۔۔۔یہ جمال ، کمال ، جلال ۔۔۔خبرِ تحیرِ عشق ۔۔۔ جنون کو مل گئی منزلِ سودا ۔۔۔ بیخودی ۔۔بے خبری

یہ جلال ، جمال کے موسم

0 comments
نغمہِ جانِ رحمت کیا ہے ؟ عشق کے فانوس پر منقش لا الہ الا اللہ ہے ۔ عشق محوِ رقص ہے ،چکور کو چاند مل گیا ہے ، زمین اور فلک باہم پیوست ہیں ، یہ آبشارِ روشنی ۔۔۔۔۔ یہ فانوسی منقش ۔۔۔۔ کتابِ عشق کا پہلا صفحہ خالی تھا ، لالہ کی فصل نے اسے سرخ کردیا ہے ، گل اس میں رکھا رہا ، خوشبو نے قبضہ جمالیا ، یہ ملک لالہ و گل کی ہے ، یہ خوشبو عطر و عنبر کی ہے ، مشک و کستوری نے سدھ بدھ کھو دی ، بیخودی کے جام نے آنکھوں میں لالی بھر دی ہے

جاناں کے جلوے چار سو ہیں ۔۔۔اسکی خوشبو پھیلی چار سو ہے ۔۔دودِ ہستی میں نامِ الہی لکھا ہے۔۔خوشبو نے معطر لبو بام کیا ہے ۔۔طواف ذات کا پروانہ کرتا رہے۔۔وہ نشانیاں عیاں کرتا رہے۔۔۔آخرش خواہشِ دید پوری ہونے کو۔۔تڑپ کے صدقے گزارش سنی ہے

ہم اسکے جلوے میں محو ہیں ، اللہ اللہ کے پاتے جارے  ہیں نشان ہے ، وہ نور جو صبا میں ہے ، وہ نور جو جھاڑیوں میں ہے ، وہ نور جو فلک پہ ہے ، وہ نور جو چاند میں ہے ، وہ نور جوآفتاب  میں ہے ، وہ نور جو زمین میں ہے ، وہ نور جو مدینے میں ہے ، ہائے وہ کتنا حسین ہے ، ہم مرنہ جائیں ، اسکا حسن ہمیں دیوانہ کیے دے رہا ہے ، اس نے ہمیں رقص کی مسرت میں رکھا ہے ،

ہم اسکی خوشبو میں مدہوش ہے ، مشام جان میں اسکی خوشبو ہے ، اسکا نور ہے ، یہ خوشبو سینے میں پھیل گئی ہے ، اسکا ذائقہ ہمارے لبوں تک ہے ، ہمیں سرور چمن میں رہنا ہے ، باغبان سے گلے ختم کیے ہے ، ذات کو جل تھل کردیا ہے ، شاخِ نہال مسرت نے خزان رسیدہ پتوں کو زندگی بخش دی ، جنون نے زندگی نئی بخش دی ہے ، نہ وہ رہا ، نہ میں رہی ، جو رہی سو بے خبری رہی

سر سے پاؤں لگے کہ خوشبو نے مجھے بھردیا ہے ، اتنی خوشبو بڑھ گئی ، پاؤں ا س میں بس گئےہیں ، باہر نکلنےکو یہ بے تاب ہے، ذرہ ذرہ خوشبو میں نڈھال ہے ، مستی سے برا حال ہے ، میرا دل مسکن بننے جارہا ہے ، جدائی ! ہائے کیسی ظالم تھی

وہ خبر کہ بارش کو آسمان سے برسنا ہے ، وہ خبر کہ بلبل کے نالہِ درد کو فلک تک رسائی ہے ، وہ خبر کہ دل کر ذرے ذرے میں ہزار ہزار جلوے ہیں ، دل والے تن کی روشنی کو دیکھ پاتے ہیں ، عشق کی انتہا نہیں ہے تو جاناں پھر پابندیاں کیسی ، عشق کی حد نہیں تو حدود کیسی ، تحیرِ عشق میں ، گلِ سرخ کی مہک میں ، صبا کے نرم میٹھے جھونکوں نے بیخودی کو ہوا دی ، چمن سرور کا جل تھل ہے ، شاخ نہال مسرت ہری ہے ، یہ کیسی بے خبری ہے

دل کی کھڑکی جب سے جاناں نے کھولی ہے ، شہرِ دل کے درواے جانے کیوں دستک کے منتظر ، دروازے تو منتظر ہیں ، شہر چمک رہا ہے ، جاناں کے جلوؤں کو تڑپ رہا ہے،تسبیح کے دوانوں میں نورِ الہی پوشیدہ ہے ، قافلہ حجاز کی جانب ہے ، راستہ دھند سے لدا ہے ، جیسے کوئی نور کی کملی میں ہے ، یہ کیسا پیارا احساس ہے

نمودِ صبح۔۔۔ ہجر ہویدا ۔۔۔ تجلیِ طہٰ ۔۔۔ تحیر مرمٹا ۔۔۔۔ بیخودی بے انتہا ۔۔۔۔ ست رنگی بہار ۔۔۔۔ سات نور محوِ رقص۔۔۔ کہکشاں میں قدم ۔۔۔ مدثر ، مزمل کے نام چمکے ۔۔۔۔۔۔۔سبز ہالہ لپٹا ۔۔۔۔۔۔ بندچلمن میں اسکا جلوہ ۔۔۔۔۔ سرِ آئنہ کون۔۔۔پسِ آئنہ کون ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بے خبری کہ ہوش کہاں