Monday, November 27, 2017

دَما دَم کہ دَم دَم میں صدائیں دُرود کی

0 comments
دَما دَم کہ دَم دَم میں صدائیں دُرود کی
زَمیں سے جو بکھری ہیں ُشعاعیں وُرود کی
دمِ رقص محوّیت جو بسمل کی بڑھتی تھی
بکھرتی رہیں جو کرِچیاں تھیں وُجود کی

تجلی یوں طہٰ ﷺ نے کی سینہ چمک اُٹھا
ادا کیں نمازیں عشق نے سب سجود کی
ثنائے محمّدﷺ محفلِ نوری میں کی تو
مٹیں دوریاں سب نورؔ جو تھیں حدود کی
میں غائب ہوں ،وہ موجود ہے،،عالمِ ہو میں
بکھرتی ہیں اکثر ہی صدائیں شہود کی

noor

Sunday, November 19, 2017

یا نبی ﷺ

0 comments
حسن ازل سے حسن ابد تلک ایک کہانی ہے مجھ تلک ، کہانی کہ بس محبت ایک داستانی ہے کیا ؟ شمع کی آپ بیتی ۔۔۔ ہر دل شمع ہے ، ہر آئنہ عکسِ جمالِ مصفطفیﷺ کی مسند ۔۔۔ دل کے کوچے و گلیاں جب کہتے ہیں یا نبی ﷺ سلام علیک ۔۔۔ صلوۃ اللہ علیک ۔۔۔ یہ قندیل جو ہر دل کے فانوس میں ہے ، یہ شمع جس کی روشنی اسمِ محمدﷺ سے ملتی ہے ، یہ اسمِ محمدﷺ کی عطا بہت بڑی عطا ہے ، جس پر سیدنا سرکارِ دو عالم ، رحمت للعالمین ، عفو سراپا ، کمالِ محبت و برگزیدہ ہستی ، جمال کمال کی بلندی پر ۔۔۔ وہ جب نظر کریں تو دم بدم دیدار کی دولت ملتی جاتی ہے ، رقص بسملِ میں عشاق کالہو بہ لہو تار بہ تار ، زینہ بہ زینہ ہوتا رہتا ہے ، رقصِ مستی میں دیوانگی عروج پر ہوتی ہے اور نقش نقش صدائیں دیتا ہے ، یا نبی سلام علیک ، یا رسول صلوۃ علیک

نظر اٹھے جمالِ مصطفی ﷺ پہ جب ، مہک سانس بہ سانس اندر اترتی چلی جائے ، یہ کمال ہے آپ کے نام کی برکت ہے ۔۔ جو روشنی ہے ہر نفس میں ، جو قران ِ پاک کی عملی تربیت ہے دل میں موجود مشک کی مانند ہے ، عطر آپﷺ مشک قرانِ پاک ، عنبر جناب سیدنا امامِ عالی حسین ۔ مومن کی آنکھ میں نمی آجائے تو سمجھیے دل سنسان نہیں ہے ، آباد ہے ، دل میں خوشبو بسی ہے میرے یحیی کی ، دل میں بسیرا ہے میرے موسی کا ، دل قربان جاتا ہے اپنے عیسی پر ، دل میں موجود ہیں سیدنا محمد ﷺ ، مسکراتے ہیں ، قربان جاؤں ، صدقے جاؤں آپ کے تبسم پر ، اتنا دلاویز تبسم کہ سب کچھ وار دوں اس پر میں ۔۔۔ حق ، یا نبی ﷺ آپ کڑوڑوں درود ، آپ ﷺ عالی نسب پر مجھ جیسے کم تر درود بھیجیں ، یہ تو سعادت ہوئی ، شکریہ نصیبِ تحفہ کرنے کا


تیری مسکراہٹ پر قربان جاؤں ، تیری کملی میں چھپی روشنی ، تیرے جلوؤں میں تجلیاتِ کمال ، کمال ہستی جناب سیدنا محمد ﷺ ۔۔۔ جھکا دیا سر میرا اپنے قدموں میں ۔۔ جھکا دل ،جلوہ ہوگیا ۔۔۔ یہ زمین و زمانے دل میں موجود ہیں ، میرے آقاﷺ دل میں موجود ہیں ۔۔ صلی علی کے نعروں سے گونج فضا اٹھی ہے ، نشتر چلیں دل پر جب سدا بہار مسکراہٹ کا تصور ہو ۔۔ ابھی تو دیکھا نہیں تو یہ حال ہے ، دیکھوں تو کیا ہوگا ۔۔ چاند ڈوب جائے گا ، سورج چھپ جائے گا ، رات چمک اٹھی گی ، صبح کا گمان ہوگا ، صبح صادق کے وقت دل آذان دے گا ،،
حی الفلاح ۔۔۔ آؤ ،،،نیکی کی طرف آؤ ۔۔۔ آؤ فلاح کی طرف آؤ

چار سو اجال دیا ہے جلوہِ جاناں نے ، زندگی کو اس قدر نکھار دیا ہے جلوہِ جاناں نے ، زندگی نویدِ سحر میں ڈوب گئی ہے ، موذن کہتے ہیں : حی علی الفلاح ۔۔ سجدہِ شکر ۔۔۔ یہ رونقیں جو شاہا نے دل میں لگائیں ہیں ، یہ جو احساس دل کی زمین پر گدازی پیدا کیے دیتا ہے ، یہ سب آپﷺ کی محبت ہے کہ جستجو ڈوبنے کی ہے جو ڈوب گیا ہے ، جستجو مٹنے کی ہے جو مٹ چکاہے ، جستجو ہے کہ جستجو مٹے نہ ، سب کچھ مٹ جائے ، یہ دل اس گھڑی پہ نازاں ہے جس گھڑی آپ اس جہاں تشرئف لائے تھے ۔۔۔

احساس کے قلمدان میں حرف حرف آرزو ہے ، سنیچتا ہے خواہشات کو طلب سے ماوراء ہوکے ، یہ دل نگینہ ہے ، یہ جان خزینہ ہے ، انسان کتنا ذلیل ہوجاتا ہے خواہشات کے پیچھے بھاگ کے ۔۔۔ بیخودی بھی کیسی ہے ، بے نیازی پہ دل مائل ہے ، دل خواہشات کے ستم سے گھائل ہے ، شاکر پڑھ کلمہ لا ۔۔ شاکر نے کہا ، حق ھو ۔۔۔ حق تو ہی ہر جگہ ، حق ، ترا ہی جلوہ چار سو، حق سبحانہ ھو

Saturday, November 18, 2017

نوری محفل سجی ہے غارِ حرا میں

0 comments
نوری محفل سجی ہے غارِ حرا میں 
مۓ شہادت  جو پی ہے غارِ حرا میں


جلوہ  تیرا  دکھے  ہر سو   کہ سعادت
دید کی پائی تھی غارِ حرا میں 

کوچہ کوچہ یہ صدا  دے  یا  "محمد "
ہر طلب  مٹ چکی ہے غارِ حرا میں


مٹ گئی تیرگی ، سرمایہِ زیست بس یہی ہے دیوانگی کو پی لیجیے ! زندگی کو جینے کا ڈھنگ سیکھ لیجیے ! ڈھنگ ہے کہ رنگ ہے ، رنگ ہے کہ  سنگ ہے ، سنگ ہے تو درِ جاناں کا ، خاک بن کے اڑوں جاناں کے قدموں سے ، نازاں ہوجاؤں اپنی قسمت پر ، جاناں کا جلوہ کب دکھے گا ، جاناں کب دکھے گا؟ اپنی قسمت پر ناز ہوگا جب ناز دائمی ہوگا ، جلوہ جب دائمی ہوگا ، کہ جمالِ نبی ﷺ کے جمال کی حد کہاں ، کہیں  ایسا نہ ہو کہ تجلیات آئنہ توڑ نہ دیں ، یہ جو جمال ہے کب ٹوٹنے دے گا ، لطافت لحجا دے گی ، جمال لٹ جائے گا باقی کیا بچے گا؟ عکس سے مینارہِ دل ، مینارہِ دل سے طور تک ، طور سے نور تک عکس مصطفی ﷺ ۔۔۔۔ جینے کا مقصد بس ایک ہے ، جو ملا ہے وہ دیے جا ! جو ملا ہے وہ دیے جا ! ملے گا اور۔۔۔۔ یہ نگینے سُرخ سُرخ ، یہ وصل کی  مۓ درکار ہے

نجف کا سرمہ لیے بنا کیسے آنا ہوا؟  الا اللہ  کا اثبات ہوا ؟ دید کیسے ہو؟ دل پر خواہشات کا جال مٹا کیا؟ فنا کو بقا ملی کیا؟ زندگی کو موت ملی کیا؟ رات کیا صبح میں ڈھلی کیا؟ نہیں ؟ تو جلنا مقدر ٹھہرا ! مقدر میں جل کے بکھرنا برا ہے کیا؟  ذرہ بکھرتا ہے تو گلنار ہوتا ہے

ہم تو جمالِ نبی ﷺ پر مٹے ، ہم تو کمالِ نبی ﷺ کو پا نہ سکے ! جمال میں ڈوبیں یا کمال کو پائیں؟ کمال ، جمال سے پرے جلال دکھے ۔۔۔ جلال ایسا کہ دکھے بھی نا ! یہ بھول بھلیاں جن میں راہی کھو جائے مگر کھوئے بھی نہ ! مل گیا ہمیں جاناں کا راز ، جاناں کا جلوہ کائنات کے دل میں ہے ، جاناں کا جلوہ شہ رگ میں ہے ، جاناں کی تجلی بوقت کن ملی ، جاناں کی تجلی ایسے جیسے الم ۔۔۔ اللہ نے لوح میں  محمد ﷺ کی تجلی رکھ دی ۔۔۔ 
درود  یا سیدی ﷺ سلام یا سیدی ﷺ
سر جھکا ! آنکھ پھر اٹھی نہ مقامِ ادب 
انظرنا کی خواہش ۔۔۔ مقامِ ادب 
جاناں کی مسکراہٹ پر لاکھوں سلام 
اے کاش کہ آنکھ نہ اٹھے ، اٹھے تو سر کٹے ، سر کٹے تو ذرہ ذرہ جلوہِ جاناں لیے ہوئے ہو ۔۔۔ کٹنا کیا ہو ؟ کٹنا کہ مرنا ۔۔۔ مرنا بہتر یوں کہ جینا ہو ، ذات میں رہ کے ذات کی نفی ۔۔ لا الہ الااللہ ۔۔۔ محمد ﷺ کی دید کے بنا کیسے مل پائے ۔۔۔ اے طہٰ آپ پر ان گنت درود 


Friday, September 1, 2017

شمع گرد پروانہ گھومتا ہی رہتا ہے

0 comments
ذکر مصطفی میں دل جھومتا   ہی رہتا ہے
شمع  گرد پروانہ گھومتا ہی رہتا ہے





*****

یہ میری آنکھ کے آنسو جو چشمِ نادیدہ سے جاری ہیں ، وہ اسمِ حق کی تپش ہے ، جو نمی دل میں ہے وہ عکسِ مصطفیﷺ کی رُوشنی ہے جس نے میرے گرد ہالہ کر رکھا ہے ۔ ذات میں خلا سا ہے ،جیسے میں ایک قدم پیچھے ہوں سفر میں ، سفر مُبارک ہے جس نے میرے رگ و پے میں جستجو کے نادیدہ دروازے وا کررکھے ہیں ، ان سے جاری اضطراب کو سرر کی ہوا سے ٹالا جاتا ہے ۔ میری آنکھوں میں چمک ہے وہ جلوہِ یار کی بدولت ہے


ذکرِ مصطفیﷺ میں دل جھومتا رہتا ہے
شمع گرد پروانہ گھومتا ہی رہتا ہے
یار کی حضوری میں روح جھومتی ہے تو
قلب، نامِ احمد ﷺ کو چومتا ہی رہتا ہے



شوق میں مقامِ حیرت کا ذکر ہوتا ہے ، حیرت کے اسرار کیا ہیں کوئی نہ جانے ۔ بس ایسی جگہ ہے جہاں پر اپنی ذات کا جلوہ رہتا ہے ، ہمیں یہی ذات ساجد دکھتی ہے ، یہی رکوع میں ، اسکی فنائیت پل پل میں خبر دیتی ہے ، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ رابطے میں روح سرکارِ دو عالم سیدنا ﷺ سے رہتی ہے اور ایک لمحے کا یہ رابطے گوکہ بے پایاں خوشیاں دیتا ہے اسی شدت سے ہجر کی لہروں کو تن بدن میں آتش کی طرح بکھیر دیتا ہے ۔ بدن ایسا کہ جلے تو دکھے بھی نہیں ۔



زندگی میں بیقراری کا مقام قرار کے بعد سے شروع ہوتا ہے ، جتنا انسان بیقرار رہتا ہے ، اتنا سکون ملنا ہوتا ہے ، یہ روح جس نے کبھی غارِ حرا کے گرد گھومتا ہوتا تو کبھی مسجدِ نبوی کے مینارے نگاہ کے سامنے ہوتے تو کبھی جالیوں کے آگے کھڑی روح سلام پیش کیے رہتی ہے ، دل میں خواہش اُبھرتی ہے کہ اتنا درود بھیجوں ، اتنا سلام بھیجوں کہ کائنات کی کسی روح نے نہ بھیجا ہو ، اتنی اطاعت کروں کہ پہاڑ گرپڑے مگر سرمہ بھی دھول بن کے نامِ احمد صلی علی پڑھتے پڑھتے بکھر جائے ، پہچان ختم ہو تو پہچان ملتی ہے ، شناخت نے زندگیوں کو مسمار کررکھا ہے ، انسان کی پہچان تو بس فنا میں چھپی ہے



سلام اے میرے شہر میں مقیم اے عالی مقام ، سلام اے سدا بہار مسکراہٹ کی حامل ہستی ، اے میرے عالی مقام! عید بھی تب ہوتا ہے جب شمع کا جلوہ تیز ہوجاتا ہے اس جلوے سے آئنہ صیقل ہوتا رہتا ہے ، عکس اتنا پڑتا ہے کہ نقل و اصل کا فرق مٹ جاتا ہے یہ مقام جس کی چاہت ہے کہ میں نہ رہوں بس میرا حبیب رہے ، میں ایک اڑتی ہوئی خاک کے ذروں کی مانند بکھری رہی ہوں ، ہر ذرہ میں جلوہ رہے ، جلوے میں ہزار وں تجلیات کے اسرار رہیں ، ہر اسرار ہزاروں راز کلامِ الہی کے منکشف کرے ، میری ذات میرے لیے مشعلِ ہدایت ہوجائے ، میرے دل میں بس تو رہے میں نہ رہوں



میں خاک ، جلوہ بس تو
میں ذرہ ، باقی بس تو
میں فانی ،لافانی بس تو
میں عکس ، آئنہ ہے تو
میں آئنہ ، جلوہ بس تو
جلوہ تو ، میں تقسیم
ہزار ہوگئے آئنے
جن میں دکھتا بس تو


اے میرے موسی ، جلوے کی تابش میں جلنا ، جل جل کے مرنا ، مر مر کے زندہ رہنا ، عشق نے مجھے مجبور کردیا ، طواف کب شروع ہوتا ہے کب ختم وہ تو ہوش نہیں بس ایک ہی ہوش رہتا ہے کہ بس تو ہی ہے ، اے لافانی یہ دنیا جو تخلیق کے مادے سے معرض وجود میں آئی ،، اس کے اندر سے جو روشنی نکل رہی ہے وہ بس تو ، میری آنکھ میں سرمہِ دید ہے ، میری زبان میں ذکر محمدﷺ کی چاشنی ہے ، اتنی مٹھاس روح میں کہ خوشی کا سا مقام ہے ۔۔۔ کب ہوگا آپ کا جلوہ، اے میرے یحیی ، کب ہوگا ، یہ دل تو سب ایک آس میں جی رہا ہے کہ کب میں آپ کی محافل میں شرکت کروں گی اور کب یہ شرکت ہوگی ، اے میرے ہادی بس دل نہیں سمجھ سکتا کہ کونسا تحفہ دوں جب آپ شہر میں تشریف لاتے ہیں میرے شہر شہر میں روشنی سے احساس کی پلکیں بھی روشن ہوجاتی ہیں 














































































Monday, August 7, 2017

دعا

0 comments

انسان کسی بات کے لیے اپنی سی کوشش کرتا ہے میں نے بھی کوشش کی  ۔۔۔۔ میں نے کوشش کی کہ  دل کو چھڑاؤں، ضبط کا دامن تار تار نہ ہو،  میں نے کوشش کی شیشہ دل پر لگی ٹھیس عیاں نہ ہو مگر افسوس ! میں نے کوشش ہستی کا دھواں رواں رواں نہ دے، میں نے کوشش کی وحشت کو پنجرے میں ڈال دوں،  میں نے کوشش کی خود کو خود سے نکال دوں،  میں نے کوشش کی درد کی چادر اوڑھ لوں، میں نے کوشش کی آگاہوں  کو آگاہی دوں، میں نے کوشش کی جسم کے سیال کو ابال دوں،  میری ہر کوشش رائیگاں ہوئی. 

میرے دعا،  مجسم دعا بنا وجود نہ سنا گیا،  نہ دیکھا گیا، نہ محسوس کیا گیا،  میری جبین نے سر ٹیک دیا اور در محبوب کا تھام لیا۔۔۔! اس کو جائے نماز کی طرح سنبھال کے نماز عشق کے سجدے کیے مگر جواب ندارد! کیا کیا  ہے میرے دل میں،  میں برس ہا برس سے پُکار رہی ہوں،  کیوں ایسا ہے دعا کو ٹال دیا جاتا ہے؟  کیوں رستہ بھی جمود کا شکار ہوتا ہے کیوں ایسا ہے بارش نہیں ہوتی، کیوں ایسا گھٹن کا سامنا ہوتا ہے کیوں ایسا آسمان کی جانب  حیرت بھی خاموش ہے!  کیوں ایسا ہے کہ قرب کا جاواداں شربت پلایا نہیں جاتا!  وہ  دل. میں بھی ،سینے  میں بھی، قلب میں  بھی!  زمین سورج.چاند سب ادھر!  مگر سنتا کیوں نہیں!  کون تڑپ دیکھتا ہے؟  جو پیارا ہوتا ہے اس کو اٹھا لیا جاتا ہے... وہ مجھے پاس نہیں بلاتا نہ کہیں سے اذن میرے رنگوں کو نور ذات کو  سرور دیتا ہے! 

 یہ دنیا ہماری ٹھوکر پہ پلی  ہے ہمیں دنیا نہیں.چاہیے ہمیں اپنا پیارا  درکار ہے!  پیارا جو ہمیں نہال ایسا کر دے کہ سالوں سرر نہ بھولے سالوں کیف کی منازل ہوں...ہمیں اس سے غرض ... وہ جانتا ہے وجود سارا مجسم دعا ہے دل میں اس کی  وفا ہے .... یہ یونہی درد سے نوازا نہیں جاتا جب بڑھتا ہے دوا مل جاتی!  اک درد وہ ہوتا ہے جو وصل کا تحفہ ہوتا ہے وجود ہچکی بن جاتا ہے، دل طوفان کا مسکن،  آنکھ ولایت کی شناخت ہوجاتی ہے مگر اک درد وہ ہے جس سے شمع نہ گھلتی ہے نہ جلتی ہے اس کا وجود فضا میں معلق ہوجاتا یے. ..... 

نہ رکوع،  نہ سجود،  نہ شہود ... ذات میں ہوتا وقوف ..اس پہ کیا موقوف کائنات جھولی ہوجائے ہر آنکھ سوالی رہے... اس پر کیا موقوف دل جلتا رہے، خاکستر ہوجائے مگر مزید آگ جلا دی جائے ...
.
جب آگ جلائ جاتی ہے تو وہ سرزمین طور ہوتی ہے تب نہ عصا حرکت کرتا ہے نہ شجر موجود ہوتا ہے!  عصا بھی وہ خود ہے اور شجر بھی وہ خود ہے!  یہ شجر انسان کا پھل و ثمر ہے جسے ہم عنایت کرتے ہیں ...زمین جب کھکھکناتی مٹی کی مانند ہوجاتی ہے تب اس کی سختی نور َالہی برداشت کر سکتی ہے ... یہ ہجرت کا شور مچاتی رہتی ہے مگر علم کا تحفہ پاتی ہے ... اس کا اسلوب نمایاں شان لیے ہوتا ہے... مٹی!  مٹی کے پتے ڈھلتی کتِاب ہیں ..

یہ.پانی کی موجوں کا.ابال ...یہ رحمت کی شیریں مثال ...یہ.بے حال.ہوتا ہوا حال ...کیا.ہو مست کی مثال.
.یہ کملی.شانے پہ ڈال ...اٹھے زمانے کے سوال ..چلے گی رحمت کی برسات ... مٹے گا پانی.در بحر جلال ... طغیانی سے موج کو ملے گا کمال ..یہ ترجمانی،  یہ احساس،  تیرا قفس،  تیرا نفس،  تیری چال،  تیرا حال ... سب میری عنایات ...تو کون؟  تیری ذات کیا؟  تیرا سب کچھ میرا ہے!  یہ حسن و جمال کی.باتیں، وہم.و گمان سے بعید.رہیں ...یہ داستان حیرت ... اے نفس!  تیری مثال اس شمع کی سی ہے جس کے گرد پروانے جلتے ہیں جب ان کے پر جلا دیے جاتے ہیں تب ان کو طاقتِ پرواز دی جاتی!  اٹھو دیوانو!  تاب ہے تو جلوہ کرو!  مرنے کے بعد ہمت والے کون؟  جو ہمت والے سر زمین طوی پہ چلتے ہیں،  وہ من و سلوی کے منتظر نہیں ہوتے ہیں وہ نشانی سے پہلے آیت بن جاتے ہیں ..آیتوں کو آیتوں سے ملانے کی دیر ہوتی ہے ساری ذات کھل جاتی ہے!  سارے بھرم حجاب سے ہیں یہی حجاب اضطراب ہے!  نشان ڈھونڈو!  غور و فکر سے ڈھونڈو!  تاکہ نشانیاں ڈھونڈتے ڈھونڈتے مجھ تک پہنچتے تم اک تمثیل بن جاؤ!  " لا " کی عملی.تفسیر جا میں الا الہ کہ تار سے کھینچے جاؤں گا ... یہ تیری دوڑ جتنا مضبوط یوگی اتنی حدبندیاں کھلیں گے،  اتنے ہی مشاہدات ہوں گے،  سر زمین طوی بھی اک ایسے جا ہے جہاں پہاڑ ہی پہاڑ ہیں... یہ جو سر سبز پہاڑ کے جلوے ہیں ان میں عیان کون ہے؟  جو کھول کھول میری آیتوں کو پڑھیں،  ان.پہ کرم.کی دیر کیسی،  یہ تسلسل کے وقفے ضروری ہیں ...یہ محبت کے سر چمشے پھوڑتے ہیں...جتنی حبس ہوگی اتنا ہی پہاڑ ٹوٹتے ہیں!  زمین سے چشمے نکلتے ہیں ... زمینیں سیراب ہوتی ہیں .. درد کو نعمت جان کر احسان مان کر  پہچان کر نعمتوں کے ذکر میں مشغول دہ .... 
خاک کی قسمت!  کیا ہے؟  دھول.ہونا! یہ پاؤں میں رولی جاتی ہے ... جبھی اس کے اصل عکس نکلتا.ہے!                        
 اس نے جانا نہیں یہ درد کا تحفہ کس کس کو دیا جاتا ہے!  جو نور عزیز ہے،  جو کرم کی چادر سے رحمت کے نور میں چھپایا گیا ہے!  تیرا ساتھ کملی والے کے ساتھ ہے،  کمال ہم نے درِ حسین علیہ سلام پہ لکھا ہے،  حال فاطمہ علیہ سلام کے در پر ....  

ہوا سے کہو سنے!  سنے میرا حال!  اتنی جلدی نہ جائے!  کہیں اس کے جانے سے پہلے سانس نہ تھم جائے!  سنو صبا!  سنو اے جھونکوں ..سنو!  اے پیکر ایزدی کا نورِ مثال ... سنو ... کچا گھڑا تو ٹوٹ جاتا ہے،  کچے گھڑے سے نہ ملایو ہمیں،  ہم نے نہریں کھودیں ہیں،  محبوب کی تلاش میں،  ہمارا وجود ندی ہی رہا تب سے ِاب تک!  نہ وسعت،  نہ رحمت کا  ابر نہ کشادگی کا سامان،  لینے کو بیقرار زمین کو کئ بادل چاہیے .... تشنگی سوا کردے!  تاکہ راکھ کی راکھ ہوا کے ساتھ ضم ہوجائے،  وصالِ صنم حقیقت یے دنیا فسانہ ہے!  ہم تیرے پیچھے پیچھے چلتے خود پیغام دیتے ہیں ... ہمارا سندیسہ پہنچ جائے بس ...  قاصد کے قصد میں عشق،  عاشق کے قلب  میں عشق،  زاہد نے کیا پانا عشق،  میخانے کے مئے میں ہے عشق .... اسرار،  حیرت کی بات میں الجھ کے بات نہ ضائع کر جبکہ اسرار خود اک حقیقت ہے ... ستم نے کیا کہنا تجھے،  ستم تو کرم یے،  بس سوچ،  سوچ،  سوچ کے بتا کہ بن دیکھے جاننے والا کون ہے؟  اسماء الحسنی کو اپنانے والا کون ہے؟ صدائے ھو کو اٹھانے والا کون .. شمع حزن در نبی ہے!  یہ وہاں کہیں پڑی ہے،  دل کی  حالت کڑی یے ..  

حق ھو !  حق ھو!  حق ھو!  یہ حسن کے پھیلاؤ کی ترکیب جان،  راز ہیئت سے جان پہچان کر،  جاننے والے در حقیقت پہچان جاتے ہیں منازل عشق کی منتہی کیا ہے کہ ابتدا کو قرار کن کی صدا دیتی ہے، موت کو قرار اک اور صدائے کن دیتی ہے ..یہ بین بین وقت ہے،  ہماری حکمت ہے!  یہ زمانہ ہے،  یہ وقت ہے جب پہچان کرنے والے آٹے میں نمک کے برابر تھے،  یہ خسارہ جو زمانے نے اوڑھ رکھا ہے اس کی اوڑھنی پہ قربانی کے ستارے جب چمکتے ہیں تو ماہتاب جنم لیتے ہیں ..انہی ماہِ تاباں میں سے کوئ اک آفتاب ہوتے ہیں!  حق موجود!  تو موجود!  حق موجود!  وہ موجود!  حق اللہ!  حق باقی!  حق،  کافی،  حق،  شافی ...حق ھو حق ھو                      

چار راستے

0 comments
نور کے نور سے رابطے!  وہ جو فلک نور کا خزینہ ہے.  جس پہ مسافر چڑھتے ہیں ،سرر کی سیڑھی سے فلک کو جس جانب چلتے ہیئت سیڑھی کی بدل جاتی ہے، مزید روشن ہوجاتی ہے مسافر کو تیسری سیڑھی غنا کے چڑھ جانے کے بعد چوتھی سیڑھی بقا کی ملتی ہے ....

اک وادی ہے،  ہادی ہے،  کون ہے علم نہیں،  وہ جب بولے، تو نگاہیں گنبدِ خضرا کو سامنے لائیں،  دل کہے کہ امام عالی ہیں ... علیہ سلام!  امام عالی کی آواز!  شاید سنی نہیں اس لیے علم نہیں ان کی آواز کیسی ہوگی!  جس کی بھی ہے آواز مگر رہبر کے پیچھے چل!  ریت پہ چلتی ہے مگر لگے خانہ کعبہ کے گرد طوف میں ہوں ... ہادی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی علیہ والہ وسلم کے پاس جانے سے پہلے مینارہِ اوج کی طرف جانا ہے. سیڑھیاں چڑھتے بالائی منزل کی جانب  چلے جاتے ہیں!  وہاں پر کھڑے ہیں ہم سارے سب سے اوپر کی منزل ہے!  وہ منزل جس کی انتہا کوئی نہیں!  جس کی ابتدا کیا ہے کہ کہ جانا کوئی نہیں ہے ... وہ چلے جا رہے ہیں ، نور کا سمندر ہے ..اس سمندر میں نوری سرنگ ہے ..اس نوری سرنگ سے نور ایسے حرکت سے بڑھتا جارہا ہے جیسے کہ انتہا انتہا ہے.  جب ہم زمین سے اوپر چلتے ہیں تب سارے شجر پڑھتے ہیں ..

یا نبی سلام علیک .. اے نبی رحمت ہو آپ پر،  آپ کی آل پر ... یا حبیب سلام علیک .. یا نبی آپ پہ سلام آپ کی آل پہ سلام ہو ... فلک پہ جاتے ہیں ہم .. ہم کہاں جارہے ہیں!  یہ کونسا مقام ہے!  ذات کے گرد طوف کیے جاؤ، معلوم ہوجائے گا!   روح کے قلب کے گرد طواف میں گھومے ... فلک پہ اللہ .... محمدﷺ لکھا آرہا ہے ... نیچے اس کے نور  ....ایمان لکھا ہے ...

ایمان کو نسبت  محمد ﷺ سے ہے۔ جتنا یقین بڑھے گا اتنی رحمت ہوگی۔ جتنی رحمت ہوگی اتنا نور بڑھے گا .. محمدﷺ کو نسبت ہم سے ہے جسطرح ایمان کو نسبت نور سے ہے                     

وہ سوہنا جو درد کو،  ہجر سے  ضو دیتا ہے. روشنی کو اجال کے چہرہ کملی والے کی شان کی بات بیان سے باہر ہے. شادیانے خوشی کے سجانے والے،  درد سے خوشی بنتے مسکرانے والے،  روح کو تن  میں سجانے والے،  آنکھ کو حیا،  لطافت دینے والے وہ ہیں جو سگِ نبی صلی علیہ والہ وسلم کو جالیوں سے بٹھائے ہیں!  میں اک سگ!  وہ میرے شاہ!  میں کہ گُناہ گار!  کہاں یہ سیاہ کاری سے بھرپور دل، کہاں وہ نورانی ہالہ،  کہاں نور ...وہ شمع جس نے ازل سے ابد تک سفر معراج کی رات کو طے کیا!  

وہ شمع جسکا دل دمِ پیدائش توحید کا مسکن . وہ شمع جس سے لرز اٹھے مومنین  کے دل،  وہ شمع جس نے دیا اجال دیا زمانے کو،  وہ آیتِ مزمل جب محبوب میں کھوگئی تو نبوت کی روشنی پائی،  وہ آیت جلالی جب اوڑھ لی محبوب کی چادر تو مدثر  بن کے چمکی،  وہ آیت جب معراج کو روبرو ہوئی تو یسین کہلوائی گئی،  وہ آیت  جب بندوں کے لیے بنی سہارا،  غریبوں کی ملجا،  فقیروں کی یحیی ...طٰہ کہلائی گئ،  

وہ آیت جس نے دل میں میرے چاروں آیات کے چراغ جلا دے ہیں!  میرے گھر کا اندھیرا مٹا دیا ہے!  وہ آیت میرے دل میں بستی جارہی ہے!  کبھی طٰﷺہ تو کبھی یسینﷺ میں کھوجاتی ہیں تو کبھی مدثر ﷺکی ہیبت سے ڈر جاتی ہوں ..کبھی مزملﷺ کی کملی میں کھو جاتی ہوان ... یہ روشنیاں میرا مقدر ٹھہر گئیں!  میرے دل میں کملی والے مکین رہتے ہیں!  اے میرے عیسی!  اے میرے یحیی!  اے میرے موسی!  اے میرے خلیل!  اے میرے داؤد ...یہ تجلیات جو لیے پیامبری کرتے  کہلائے کلیم اللہ،  خلیفتہ اللہ،  خلیل اللہ،  روح اللہ ... یہی چار تجلیات کا مرقع آپ کو بنا کے تاجدار بنایا گیا!  اے نبی!  آپﷺ شہنشاہ داؤد سے بڑھ کے ...دوست خلیل اللہ سے بڑھ کے،  فقر میں یحیی و عیسی سے بڑھ کے،  روح کی نسبت میں میں عیسی سے بڑھ کے،  کلام کیا ،دیدار میں سب دیدار والوں سے بڑھ کے!   وہ جو ابتدائے نور ان جلیل الولعزم اولیاء کو دیا گیا، اس نور  کی منتہی ہوئی  یانبی ﷺ آپ ﷺ پر ! 

اے میرے یحیی!  اے میرے عیسی!  اے میرے حبیب!  میری سنتے رہیے میں نہ چھوڑوں گی جالیاں سنہری!  مجھے تھام لیجیے!  مجھے قریب کر لیجیے!  اے میرے ہادی!  اے میرے شاہا!  غلامی میں ہوں!  غلامی کی سند دے دیجیے!   مجھے علم امی عائشہ سا دے دیں!  مجھے حلم،  عفو،  حیا،  احساس،  پیار،  بانٹنے کا سلیقہ بی بی فاطمہ علیہ سلام کا سا دے دیں!  مجھے غلامی میں دے دیں!

اے میری فاطمہ!  اے میری فاطمہ!  اے سیدہ!  اے عالی نسب!  اے عالی ہست!  اے سراپا عفت!  اے سراپا حیا!  اے سراپا وفا پرور ہستی! آپ پاکبازی میں مریم سے بڑھ کے!  آپ کا حلم خدیجہ رض سا ہے،  آپ کی جلال میرے شاہا جیسا ہے!  آپ کا کمال حسین علیہ سلام کو ملا!  آپ کا جمال حسن علیہ سلام کو ملا!  آپ جیسی کون ہوگی؟   سن لیجیے!  نور کو خدمت میں   لے لیں                                             

بند آنکھوں میں خواب ہو جیسے

0 comments
بند آنکھوں میں خواب ہو جیسے
خوب صورت گلاب ہو جیسے

----------------
دی قفس نے رہائی کب مجھ کو
خوابِ موج سراب ہو جیسے
-----------------​
موت بارش کی طرح برسی ہے
رنج و غم بھی سُحاب ہو جیسے
-------------------
قتل ہو کے شہید کہلائی
خون نکلا کہ آب ہو جیسے
---------------------
غلطیوں کو شمار کرتے رہے
گزرا ماضی عذاب ہو جیسے
--------------------
ہجر دکھ درد بن کے گزرا نورؔ
لمحہ لمحہ عذاب ہو جیسے 

Sunday, July 30, 2017

Tick ! Tick

0 comments


When your impulses are turning to impudence ,when your earth is drowning into the water , when your chemistry is getting changes , when changes are unknown , when your curiosity is on the peak , when you want to fly high and high , when you are confined in your limits though limitless in your approach , when you have see inside , waves ruthlessness pushing whole body like a throbbed heart , when your existence is like mercury who boils and splashes after heating , when your heart has numerous hidden question not answered , when your pain is beyond your limit , when you are yearning for meeting with your beloved ,
then call Him !
O ` dear come near ~ So near , no distance can be mounted between , no boundaries can be imagined between , no painRain ! Rain ! it is falling and lightning the meadows , caves ,flowers and gives lights to fireflies ...One firefly has started rotating around rose ,and jasmine fragrance has started dispersing here and there ,when your your flutter the wings to un-cage the cage , when you sing like a nightingale , when music has started tuning you , when you are absorbed in Him ,

He says : O light ! Thy flaming light is mine , Thy shimmering is mine , thy voice is mine , thy dance is mine , what is yours ?

Tick ! Tick ! Tick ! Tock ! Tock ! Tock !  Tick tock ! Tick tock ! ticktock

Thy mingled voice , thy ignited flaming fire , thy glistening light , thy soothing voice ! aA ! What is mine ! All is yours ! Who is in me ? You ! Who are you ? My lord ? My master ? My beloved ? Yes ! you are my beloved ! Loook !The distances are like rifle shot and bullets are piercing into my heart , Your splashes are like flood , I am in flood ! I am in flood , you are immense , you are deep , you are supreme  ..with your soft melodious voice you have cut my heart like knife cut an apple .......Your love wine is making me numb ........


When there was no one , I was .......Man has been given power and my self is absorbed in him ,,,My love he never understand and person who wanted to approach me would have to suppress  the ego ...


Dance ! Sing ! smell ! see !
whirling fireflies moved around Rose in ecstatic state ! Some one has gone lunatic , some has lost senses , someone is finding her love , someone is in cage , someone is not able to resolve mysteries

Glass is shattered ! Crash! Crash ! Crash ! Awww ! pieces ! Who is seeing , to whom I am looking ? Who has same shade of mine ! I am Him or He is me ! I am Him , or He is me , I am Him , he is me ! Haq ! Haq ! Haq ! HO ! Hoo! Hooo! Hoo! He is in me ! He is me or I am him ! He is my dress , white dress , without any stain ! Whirl ! Whril ! Whril! O my wind ! O my wind whirl ! Whirl and see the world , He wants to see the world , He wants to make me see the world ...He is here , Where HE  is ? He is in desert ? H e is in sea? He is shadow ? My
shadow ? No he is not anywhere . I am Him !




He says ! O Noor ! Your are mine .I am saying , you have flamed my heart , my heart is aching with pain , flood is spinnig the mountains , rain is making me insane ..... I am in your rain , no need for the pain ...

Dream ! Noor dream ...When the night of dream will come , then prayers will be in stream , showering will gleam , do not scream !
Aww ! Whirling wind ! I am His meloday , the melodies which are piped inside , He is piping and I am listening , He is pulling me , I am dancing , I want to scream , when you will meet with me , when night of dream will come , when lingering for will vanish , when snow will fall , when I will walk over bridge , When wind will blow giving a Rose smell ,

⁠⁠⁠⁠9:05 AM⁠⁠⁠⁠⁠
  will be hanging inside the case !




Friday, July 28, 2017

ماں

0 comments
ماں ایسی ہستی ہے جس نے تخلیق کا فرض نبھایا ہوتا ہے ، جس نے تخلیق کی خدمت کی ہوتی ہے مگر بدلے میں سرکشی ، خودسری خلقت کی سرشت ہوتی ہے ، ایسی بے مثال ہستی جس کی اپنی خلقت  بھی اسے برا، بھلا کہے تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ ہوتی ہے کہ خلافِ رحمت کام کرنا ماں کے شانِ شایان نہیں ہوتا

ماں! کیا ہوتی ہے ماں؟ آخر درد کو حاصل کرکے کتنا سکون پاتی ہے ماں؟ اس  ملال کو جو رکھے دوریوں پر، کتنا ترساتی ہے ماں، وہ جب جب قریب ہوتی ہے، فلک پر دنیا نصیب ہوتی ہے! ماں کی مامتا بڑی بے لوث ہے! بڑا دکھ سہا مامتا نے! تخلیق کے وقت موت سے گزر جانے والی ماں کی قدر اسکی اولاد نہیں جانتی مگر اسی نافرمان اولاد کے پیچھے بھاگ بھاگ کے جاتی ہے ۔ بچہ پیدا ہوتے ماں کا لفظ پکارتا ہے اور ماں خوشی سے پھولے نہیں سماتی ! بچہ اپنی پہچان کو ''ماں '' بلاتا ہے اور جب بڑا ہوتا ہے تو اسی ماں کو بھول جاتا ہے ، بچہ ماں ماں نہ کہے ، کتنا دکھ کرے ماں ۔پہچان اصل چیز ہے جو بڑے ہونے پر سب بھول جاتے ہیں

ماں کی دوری نے ہلکان کردیا جیسے ذرہ ذرہ پریشان کردیا، کتنا دکھ کرے تخلیق ؟ دکھڑا درد کا کیسے کہے تخلیق؟ جب سنے نہ کوئی تو کون سنے؟ جب دکھےنہ کوئی تو کون دکھے؟ جب چھپے نہ کوئی تو کون چھپے؟ جب اٹھے نہ کوئی تو کون اٹھے، ماں نے پورا وعدہ نبھایا پر سبق ملن کا نہ آیا

سبق ملن، جدائی اور ہجر نے جلادیا دل، جلا دیا دل، اس کی جانب نگاہ ہے، سجدے میں سر بھی جھکا ہے، اس کو پہچانوں ناں، کتنا دکھ کرے ماں؟ وہ جو قریب ہے؟ وہ جو حبیب ہے؟ وہ جو حسیب ہے، وہی نصیب ہے! 

ماں تو دوری بڑا ستاندی اے، 
اکھ ہن نیر وگاندی اے



ماں تجھے پہچان نہ سکوں تو کس کو پہچانوں؟ ماں  تجھے نہ مانوں تو کس کو مانوں، زمانے کے سرد و گرم سے بچایا، مجھے نور میں چھپایا، لہو لہو دل ہے، قلب میں جس کا جلوہ ہے جس کی قندیل ہے، وہی میرا وطن ہے، وہی میرا اصل ہے، وہی مرا مقصدِ حیات ہے جس کو پایا بعدِ ممات ہے! ماں توں دوری نے آزمایا، لوکی کہون مینوں پرایا، میں اس دنیا اچ کی کمایا جے ماں تینوں نہ پایا؟

یہ جذبات، یہ احساسات، یہ رگ رگ سے نکلے لہو کے ان دیکھے قطرے جو گر رہے قلب کے وجود پر، جن کا نشان نہیں ہے مگر ظاہر نے نمی سے منعکس کردیا جس کا جلوہ  عالی ذیشان ﷺکی آنکھوں میں ہے، وہ مسیحا، وہ جس کو میں کہوں عیسی: قم باذن اللہ سے میرا دل جلایا،  دی زندگی، قلب کو منور کرایا ....  وہ مجسمِ نور ، وہ سراپاِ رحمت ، وہ عین رحمانی ، وہ نور یزدانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ طہٰ ، جن کی تجلیات نے بطحا کی وادیوں کو روشن کردیا ہے ، جن کا احساس دائمی ہے ، دل جن کے آنے مجلی ، مطہر ، مطیب ، منور ، منقی  ہوجاتا ہے ، انہوں نے درد کو سہا ہے ، وہ محبت جو خالق نے اپنے محبوب ِ خاص ﷺ کو دی ، وہی محبت عام کردی آپ نے یعنی کہ بانٹ دی ، خالق کی عنایت تو خاص کر دیتی ہے ، نبی ﷺ کی نظر سب پر یکساں پڑتی ہے ، ذروں کو آفتاب کردیتی ہے ۔

Sunday, July 9, 2017

حی الفلاح

0 comments
احساس کے قلمدان سے نکلے لفظ جب نکلتے ہیں تب تلاطم برپا ہوجاتے ہیں ۔ روشنی کا سفر شُروع ہوجاتا ہے اور احساس کچھ یوں قرطاس پر تحریر ہوتا ہے

''وہ جو عشق کی لو بڑھا دی گئی ہے،دل میں تمجید بڑھا دی گئی ہے، خشیت وضو کرا گئی ہے ،طائر کو پرواز دی گئی ہے ،روشنی قندیل (دل) کا حسن بڑھائے اور شُکر کا کلمہ ادا نہ ہو ، بھلا کیوں ؟''

احساس سے نکلے لفظ جب تحریر ہوتے ہیں ، سوال سامنے ہوتا ہے اور جواب کی تلاش کی جاتی ہے، شکر کا اگر کہا جائے تو شکر لازم اور بندہ خود کلامی کرتا ہے

شاکر پڑھ کلمہِ لا : سبحان اللہ
شاکر پڑھ کلمہِ توصیف:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ٭اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔۔۔۔
شاکر پڑھ کلمہِ عشق:
أَشْهَدُ أنْ لا إلَٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَأشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے
حی الفلاح : آو ، فلاح کی طرف ، آؤ محبت کی تقسیم کریں ، محبت ایک عبادت ہے


یہ عشق مثلِ توحید اخلاصِ عمل ،یہ عشق مثلِ بحرِ موج  طغیان مشتاق ،یہ عشق علائق سے جان چھڑانے کو،یہ عشق تیز ہوا میں لے جائے،تندِ باد سے کون گھبرائے اب،وہی گرائے جو اٹھائے بار بار،بالآخر عشق کہے :

عشق تو ہی اندر ،میں کون؟عشق رونما ،جلوہ نما ، دنیا کہاں؟۔عشق جنم در جنم کھیل کی پوٹلی سے نکلا دھاگہ،عشق داستان ہے کٹھ پتلیوں کی ،عشق بے کلی میں گامزن اوج کا سفر ہے ،عشق شہادتوں کا سلسلہ ہے ، یہ امامت کا رتبہ ہے ،سعادت کا کلمہ ہے ، شجاعت کا پیکر ہے تیغ زن ہادی ہے۔سیدنا اما حسینؑ عشق کی ان تمام باتوں پر پورا اترتے ہیں ،عشق کی آذان دی اور بُلایا

شاکر پڑھ کلمہِ عشق:
أَشْهَدُ أنْ لا إلَٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَأشْهَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے
حی الفلاح : آو فلاح کی طرف : فلاح محبت سے ہے ، محبت عبادت ہے


سیدنا امام حسین کی پیروی ہر مسلمان و مومن پر جائز ہے ، ان کی دی گئی قربانی فلاح کی ترویج کے لیے تھی ، عشق کے موذن نے کیا خوب آذان دی ۔ اس آذان میں عشق جب چاہا وار کیا  ...  یہ  نماز ایسی ہے کہ نمازِ عشق میں عاشق لہو لہان ہوجائے اور جب چاہے علاج کرے  یا طبیب جی مرضی کے بے بس چھوڑ دے ! اسکے مریض   عُشاق ہیں !    عشق ستم نوک سناں دیتا ہے،  پیدا ہوتے ہجر کا جہاں دیتا ہے!   بعدء امر  عاشق کا رواِں رواں فغاں کرتا ہے!  ضرب العشق سے موت کو ہجر کا آسمان دیتا ہے. نشاط ہست کا مثردہ ہے  عشق! عشق کو جو بیان کریں، نہ کر پائیں!  جواسکو کر سکیں،ان سے ہو نہ پائے، جو ان سے ادا ہو عشق  ،تو بیان ہو جائے ... سیدنا امام حسینؑ عالی مقام نے کیا خوب عشق ادا کیا ہے، عشق  فریضہ حج کی نمازِ قربانی ہے. تسلیم جس کا وضو ..رضا اس  کی نیت ہے ...
٭٭٭٭
شاکر پڑھ کلمہِ لا : سبحان اللہ
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے
حی الفلاح : آو ، فلاح کی طرف ، آؤ محبت کی تقسیم کریں ، محبت ایک عبادت ہے

اے زندگی!  بدل جا مٹ جا!  اے زندگی!  حقایت ہو جا!  داستان ہو جا!  اے موجِ نفسِ ذات ہماری ہوجا!!  تیرے لیے بنایا جہاں!  ہمارے لیے جہاں کی ہو جا!

تو ساز عشق ہے ... تو صلیبِ وفا ہے!  تو مریضِ دعا ہے، تو نم مٹی کی التجا ہے!  تو میری حیا ہے!

اے مٹی!  مٹی ہو،  مٹی بن،  مٹی رہ،  مٹی سے رل،  مٹی کھا،  مٹی اوڑھ ...

''اوڑھ لی تیری چادر ساقی!  اوڑھ لی ... تیری نظر میں ہم ہیں!  گھائل نہ کیجیو!  ہم تو اب مانگے رے حجاب! ''

نہ کر بندیے تیری میری!!  ہو جا تو اب فقط میری ...

''شرمندہِ خواب کی مانند رسوا نہیں ہم!
ہم وہ جو چاہیں تجھے عمر بھر!''

احساس عاشق کو توانا کرتا ہے!  لباس مجاز میں حقیقت کی اوڑھنی پہناتا ہے ،  چاہت کا نغمہ سنانا عاشق کا کام!  عاشق تیرا اور کیا کام؟  چل لے میرا نام،  ہے مردود بس شیطان،  لے میرا نام،  ملے تجھے انعام ہوگا تجھ پرہوھا اکرام،  بارش یہ نہیں عام،  مٹ جانا تیرا کام، باقی رہے گا میرا نام!  آجا !  آجا میرے کول!   عاشق ہو جا میرا!  کیوں ہے یہ دوری!

عاشق :میں تیراں آں مولا!    میرا مرشد سائیں توں،  ہادی سچا توں،  میرا عشق وی توں،  پیامبر وی توں،  میری ذات نوں شمع مثل کیتا توں،  میرا کی کام مولا،  لواں گا بس تیرا نام!

صبوح!  قدوس!
الرحمان!  الرحیم!  الروف!   الماجد!  الرافع!  المقیم!  المغنی!  المقسط!  الحئی القیوم!

یہ ترا رنگ ہے جلال کا  یا کہ کمال میں چھپے بے شمار خزانے!  یہ خرانے علم کے ...یہ جواہرات اسماء القدیم!  یہ منقش کرسیوں پر آیتیں!  یہ دل کی سنگتوں میں حق  ھو کی واجیں!  یہ تری ،مری کہانی!  حق تیرا عاشق  جہاں جہاں گیا،  نہ ملا تو ،تو ملا کیا؟  ملا تو، رہا کیا؟  رہا کچھ نہیں ،تو تماشا کیا؟  تماشا بزمِ توحید کا سجاتے ہو!  ہر آیت وحدت کی بتاتے ہو!  جلاتے ہو!  بجھاتے ہو!  ہائے!  اتنا جلا دو کہ ہوش نہ رہے!  جلا کے کیجیو بے ہوش!  کہیو نا ہمیں!  کہاں کہاں نہیں ہم!  یہ کرسی!  یہ فلک!  یہ عرش!  یہ نکہتِ زیبائش سے گل رنگ مصفطوی نور جس سے چمکے لوح مبین!  دمک اٹھی زمین!  نوریوں نے کہا!
٭٭٭٭٭
پڑھو: کلمہِ توصیف:

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ٭اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔۔۔۔
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے
حی الفلاح : آو ، فلاح کی طرف ، آؤ محبت کی تقسیم کریں ، محبت ایک عبادت ہے

  نور مجلی آیا!  چھپ جاؤ!  حجاب لے لو،  بے نقاب آیا!  جھکتے کیا !!!  گر گئے سارے!  تسبیح رک گئی!  تھم گئی کہانی!  سکتہِ حیرت کو سو سال سنائے گئے کہ سکتہِ وصل کی بوندوں سے ترسائے گئے!  سکتہِ جذب میں مٹی کیا گیا!  سکتہ جمال نے ہوش دے دیے! مجذوب کردیا!  کمال ہوگیا!  نوریوں کو ہوش آگیا، دم میں دم آگیا. جبین اٹھ گئی ،سر نیاز میں گیا،  رات کٹ گئی وصل میں،  صبح کا اعجاز گیا،  شام ہجران کو بدلا الفتِ کی بدلیوں نے رات کی ماہتابی میں، چاندنی میں!  مسکرا کے قمر نے آنکھ موند لی!  چمک اٹھا سورج!  لوح مبارک چمک اٹھی!  اشک زار زار! پوچھو میرا حال!  کمال!  کمال!  کمال!  حال!  حال!  حال!  بے حال جاناں ہیں ،کیا سنائیں۔۔۔؟ ...قصہِ مختصر رگوں کا سکون چھن گیا،  طنابیں کھینچ لی گئیں اور سورج کو سجدہِ شکر ہوا!  سجدہ شکر!                

شاکر پڑھ کلمہِ توصیف:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ٭اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔۔۔۔
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے
حی الفلاح : آو ، فلاح کی طرف ، آؤ محبت کی تقسیم کریں ، محبت ایک عبادت ہے

دل اچ واجاں درود دیاں آندی نیں!  دل وچ ہادیؐ، مرسلؐ سچا عشق سائیں!  دل وچ طٰہؐ سچا مسیحا ؐتوئی!  دل وچ طبیبؐ تے حبیب ؐاے! یہ نصیب کی بات ہے ، کرم کے فیصلے ، جسے چاہا اپنا بنالیا ، جسے چاہا اپنا بنا لیا ! جسے چاہا محفل میں بلا لیا ،

یا نبی سلام علیک ، یا رسول سلام علیک ، یا حبیب سلام علیک
سارے پڑھو درود ، صلی علی حبیبِ ناز ، صلی علی محمد ؐ

٭٭٭٭٭

شاکر پڑھ کلمہِ لا : سبحان اللہ
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے
حی الفلاح : آو ، فلاح کی طرف ، آؤ محبت کی تقسیم کریں ، محبت ایک عبادت ہے

تیری بزم میں سر جھکائے کھڑے ہیں ، ادب سے جھکی گردن ہے ، دل کہ ستم سے بیحال ! مت پوچھو کیا ہے دل کا حال ! بعد وصال فراق کا موسم نہ ہو ، بہار ہے ، سدا بہار رہے !

یہ رنگ جو کائنات میں بکھرے ہیں ، یہ سارے میرے رنگ ہیں ! میں ہی دکھ دیتا ہوں ،میں ہی طبیب ہوں

صدا سنتے ہی عشق جو مودب کھڑا  ، سدھ بدھ کھو دیتا ہے

توں اندر،  باہر توں!
توں متوف،  مطاف وی توں
تو حاجی تیں،  کعبہ وی توں
توں معبود تے ،عبد اچ توں
تو'' لا ''دی مٹی اچ وسیا نور

''الا اللہ'' کہیے تو مارے'' اللہ ھو'' دی تار!
ھو !  سبحان ھو!   صبوح قدوس!  صبوح قدوس!
حق رحمانی ھو!  اللہ والی تار وجی!
  مرشد ترا کون؟  عشق!
    ہادی کون؟  عشق؟
    خالق کون؟  عشق
  مخلوق اچ کون؟  عشق
عشق کتھے کتھے،  چارے جاواں، چار چفیرے،  مٹ گئے سارے ہنیرے!
حی الفلاح!  حی الفلاح!

  آذان سنا دی گئی!   فلاح کی بات کر دی گئی! آذان عشق کی، نماز عشق کی، تسبیح عشق کی، قربانی عشق دی .... نعمتیں مکمل! جب سب مکمل ہو جائے تو ربِ تعالیٰ فرماتا ہے

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ

رب کی رضا ہوجاتی ہے ، جب زندگی اسکے دیے گئے طریقے کے مطابق بسر ہوجاتی ہے ، جب طاعت مکمل ہوتی ہے تب اسکی نعمتیں بھی مکمل ہوجاتی ہیں ، وہی والی ہوجاتا ہے عبد الولی کا !  یہ نعمتیں کس پر مکمل ہوئیں ؟ سیدنا امامِ عالی  نبی محتسمؐ پر ، جن کے بارے رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ

لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾
                 

شاکر پڑھ کلمہِ توصیف:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ٭اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔۔۔۔
هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ
احسان کا بدلہ احسان کے سوا کیا ہے
حی الفلاح : آو ، فلاح کی طرف ، آؤ محبت کی تقسیم کریں ، محبت ایک عبادت ہے

اے عشق، دیار عشق چل!
اے دیار عشق!  نبیؐ کے در چل!
اے دل تھم جا!  رک جا!  یہ نبیؐ کا در ہے!  اے دل مٹ ہی جا! نصیب بن جائے گا!  رک جا!  مر جا!

ہم مرنے نہیں دیتے!  ہوش والوں کے ذمے بہت سے کام ہیں!  یہاں دیوانگی سر عام نہیں!  عشق منبر کا کلام نہیں!  یہ تلوار نیام میں نہیں! ...

سیدی!  مرشدی!  یا نبی!  یا نبی!
سارے پڑھو درود سرکار آگئے!  سارے پڑھو سلام سرکار آگئے!


اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ٭اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ
كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ.إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ۔۔۔۔

محفل مقدس میں حاضری کا مقدر ہے ،  آپ کی غلام ہوں ،  آپ کی سگ ہوں !  آقا!  لے لو سلام!  مرا آقا!  سلام لے لو !  اے ہادی!  اے یسینؐ!  اے طٰؐہ!  اے شوق کے آئنے میں براجمان تجلی ..... آپ کی عنایات نے  دل بھر دیا ہے !  شکر کیسے ہوا ادا!!!


آقا!   قدموں میں جگہ دے دیجیے!  آقا!  آقا یہ دل اپنی پناہ میں لے لیں... !  اے میرے یحیی! اے میرے عیسی! اے مرے موسی!  اے مرے ہادی ...! ن... اس دل  کو پاس رکھ لو اپنے آقا. یہ دل  آپ کا دیکھتا رہے گا تبھی سکون میں رہے گا!  مجھے در پر پڑا رہنے دو!   آپؐ کو کتنے عزیز تھے سیدنا بلال رضی تعالیٰ عنہ،  سیدنا زید رضی تعالیٰ عنہ  ... ان کے پیار کے صدقے مجھ پہ کرم کر دو نا آقا !  آقا لے لو سلام!

ایسا نہ ہو کہ دم گھٹ کے مر جاؤں، ایسا نہ ہو کہ آقا ہچکیاں  لیتے لیتے مرجاؤں ...اس دنیا سے ہر رشتہ جھوٹا ، سب سچے رشتے عشق کے  دل میں آپؐ کا خیال ہے آقاؐ ... دل نم ہے آقاؐ!  اشکوِں کے ردھم کی مالا نے سانسوں کو ضوفشانی بخشی ہے. طغیانی  میں  خاموش!  خاموش!  با ادب!

حسن کو نوازش کی انتہا سے ہماری محفل میں جگہ مل چکی ہے ...

وہ مبارک چہرہ مسکرائی جائے!  مسکراہٹ دلنشین ... اک اک ادا پہ قربان آقا!   .. شاہا!  آپ کے دندان مبارک سے جو روشنی نکلتی ہے مجھ میں  اس کی تاب نہیں!  مگر پھر بھی جلوے کو بے تاب  کہ  آرزو مکمل ہوجائے، تصویر مکمل ہو ،زندگی رہے بے شک ادھوری ... شاہا آپؐ کے  دندان مبارک سے غار حرا کے دیواریں تک روشن ہیں، جب سرکار دکھیں گے دل مدینہ ہو گا  کہ مکہ!  دل سر زمین حجاز ہے. عشق کا یہ اعجاز ہے